سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 321 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 321

321 یقیناً روس کے عمل کا محرک امریکہ کے عمل کے محرک سے زیادہ خطرناک ہے۔لیکن چونکہ عمل دونوں کا ایک ہے۔اس لئے بہر حال عالم اسلامی کو روس اور امریکہ دونوں کا مقابلہ کرنا ہوگا۔مگر عقل اور تدبیر سے۔اتحاد اور یک جہتی سے۔اس کے بعد حضور نے اس طرف توجہ دلائی کہ جب مسلمانوں پر حملہ ہو تو انہیں متحد ہو کر اس کا مقابلہ کرنا چاہئیے۔اور خواہ انہیں اپنی جائیدادوں کا ایک ایک فیصد بھی فلسطین کے مسلمانوں کو دینا پڑے انہیں ایسا کرنا چاہئیے۔اس طرز پر ایک خاطر خواہ رقم جمع ہوسکتی ہے۔اور یورپ کی منڈی سے ہر چیز مل سکتی ہے۔مگر زیادہ بولی لگانی پڑے گی۔جیب بھری ہوئی ہونی چاہئیے۔جب ساری طاقتیں مل کر مسلمانوں پر حملہ کر رہی ہیں تو مسلمانوں کو بھی چاہئیے کہ وہ متحد ہو کر اپنا دفاع کریں۔اور اس طرح اسلام کے خلاف جو رو چل رہی ہے وہ الٹ جائے گی۔اور مسلمان ایک دفعہ پھر بلندی اور رفعت کی طرف قدم بڑھانے لگیں گے۔(۱۴) لیکن عرب ابھی اتنی منظم سازش کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار نہیں تھے۔اس جنگ کا نتیجہ صرف یہ نکلا کہ کہ جیسا کہ پہلے ہی سے منصوبہ تھا فلسطینیوں کو اس تھوڑے سے علاقے سے بھی محروم کر دیا گیا جو کہ اقوام متحدہ میں ہونے والی بندر بانٹ کے نتیجے میں انہیں دیا گیا تھا۔لاکھوں فلسطینیوں کو اپنے گھروں اپنے علاقوں سے نکل کر وطن بدر ہونا پڑا۔وہ گھر سے بے گھر ہوئے اپنی جائیدادوں سے محروم ہوئے۔ان کی املاک ان کی نہ رہیں۔ان کی جگہ اب یہودیوں کو آباد کیا جا رہا تھا۔یہ سب تاریخ کے معروف حقائق ہیں۔آج تک عالمی منظر پر فلسطین ایک رستا ہوا زخم ہے۔لیکن یہ سازش صرف فلسطین کے اُن علاقوں تک محدود نہیں تھی جن پر اب تک قبضہ کیا جا چکا تھا۔بڑی طاقتوں کے عزائم بہت گہرے تھے۔۱۰ ستمبر ۱۹۴۸ء کو حضرت مصلح موعودؓ نے ایک خطبہ جمعہ میں مسلمانوں کو خبر دار فرمایا کہ مسلمانوں کو اب فیصلہ کر لینا چاہئیے کہ عزت کی موت ذلت کی زندگی سے بہر حال بہتر ہے حضور نے فرمایا کہ اس میں شبہ نہیں کہ مسلمانوں میں بیداری پیدا ہو چکی ہے۔لیکن یہ بیداری جس رنگ میں ہو رہی ہے مستقبل قریب میں اس سے مثبت نتائج کی توقع نہیں کی جا سکتی۔حضور نے قومی اخلاق کی ترقی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت نہ مسلمانوں کے قومی اخلاق اعلیٰ ہیں اور نہ ہی انفرادی اخلاق اعلیٰ ہیں۔اور انفرادی اخلاق کے بغیر روحانی فتح نہیں