سلسلہ احمدیہ — Page 322
322 ہوسکتی اور قومی اخلاق کے بغیر جسمانی اور مادی ترقی نہیں ہوسکتی۔سب سے پہلے لیڈروں اور راہنماؤں کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر خاص تبدیلی پیدا کریں مگر اس طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی۔اگر وہ شان و شوکت کو حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں انفرادی اخلاق کو بدلنا پڑے گا۔سچ، محنت ، حسنِ سلوک حسنِ ،معامله، دیانت، امانت و غیره ان سب اخلاق کو پیدا کرنا پڑے گا۔جہاں تک قومی اخلاق کا تعلق ہے مسلمان ترقی کی طرف جا رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا وہ اتنی جلدی ترقی حاصل کر لیں گے جتنی جلدی لڑائی شروع ہو رہی ہے بظاہر یہ ممکن نہیں۔اب تو ایک ہی چارہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان متحد ہو جائیں کیونکہ اب کسی بھی ملک کے مسلمان محفوظ نہیں۔حضور نے تحریر فرمایا کہ منصوبہ یہ ہے کہ ایک زبر دست یہودی سلطنت قائم کی جائے۔کیونکہ یہودیوں کا خیال ہے کہ وہ اس کے بغیر عزت کی زندگی نہیں گزار سکتے۔وہ صرف اس حصہ کو نہیں لینا چاہتے جو ابھی انہیں دیا گیا ہے۔وہ سمجھتے ہیں کہ اگر انہوں نے اس حصہ کو لے لیا تو وہ آسانی سے باقی حصہ پر بھی قبضہ کر لیں گے۔اس لئے انہوں نے یہ تجویز کی ہے کہ پہلے فلسطین کے ایک حصہ پر قبضہ کر لو پھر آہستہ آہستہ باقی فلسطین پر قبضہ کر لیا جائے۔پھر اردن ، شام، لبنان اور مصر کے علاقوں پر قبضہ کرلیا جائے۔وقت نے ثابت کیا کہ حضور کا اندیشہ بالکل درست تھا۔۱۹۶۷ء کی جنگ میں اسرائیل نے اپنے اس منصوبہ کے ایک حصہ کو عملی جامہ پہنا بھی دیا اور شام، اردن اور مصر کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا۔اور اس بنا پر یہ خطہ اب تک ایک آتش فشاں کی صورت اختیار کر چکا ہے۔باوجود کئی دہائیوں کی مصالحتی کوششوں کے اب تک یہ مسئلے حل نہیں ہو سکے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے افغانستان کے متعلق روس کے عزائم کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرمایا اب روس سمجھتا ہے کہ انگریزوں کے ہندوستان سے چلے جانے کی وجہ سے اُس کے لئے موقع ہے اس لئے روس کی طرف سے کوشش کی جارہی ہے اور یہ روسی ایجنٹ ہی ہیں جو افغانستان کو پاکستان کی حکومت کے خلاف بھڑکا رہے ہیں کیونکہ اگر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات خراب ہو جائیں تو جب وہ افغانستان میں داخل ہوگا تو افغانستان