سلسلہ احمدیہ — Page 319
319 یہودی فوج اور عرب ممالک میں جنگی تصادم شروع ہو گیا (۱۳) لیکن بدقسمتی سے جیسے پہلے حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب اور حضرت مصلح موعودؓ نے متنبہ فرمایا تھا، مسلمان اور عرب نہ تو اُن بھیانک خطرات کو سمجھ پارہے تھے جو ان کی طرف بڑھ رہے تھے۔نہ انہوں نے ان حالات سے عملنے کے لئے کوئی منظم تیاری کی ہوئی تھی اور نہ ہی انہیں دشمن کی تیاری اور قوت اور عزائم کا صحیح اندازہ تھا۔اس نازک موڑ پر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے الـكـفـر مـلة واحدة کے نام سے ایک تاریخی مضمون تحریر فرمایا۔اس میں آپ نے تحریر فرمایا وہ دن جس کی خبر قرآن کریم اور احادیث میں سینکڑوں سال پہلے سے دی گئی تھی ، وہ دن جس کی خبر تو رات اور انجیل میں بھی دی گئی تھی۔وہ دن جو مسلمانوں کے لئے نہایت ہی تکلیف دہ اور اندیشناک بتایا جاتا تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ آن پہنچا ہے۔فلسطین میں یہودیوں کو پھر بسایا جا رہا ہے۔امریکہ اور روس جو ایک دوسرے کا گلا کاٹنے پر آمادہ ہو رہے ہیں۔اس مسئلہ میں ایک بستر کے دو ساتھی نظر آتے ہیں۔اور عجیب بات یہ ہے کہ کشمیر کے معاملے میں بھی یہ دونوں متحد تھے۔دونوں ہی انڈین یونین کی تائید میں تھے۔اور اب دونوں ہی فلسطین کے مسئلہ میں یہودیوں کی تائید میں ہیں۔آخر یہ اتحاد کیوں ہے۔یہ دونوں دشمن مسلمانوں کے خلاف اکھٹے کیوں ہو جاتے ہیں۔اس کے کئی جواب ہو سکتے ہیں۔۔۔شاید یہ دونوں ہی اپنی دور بین نگاہ سے اسلام کی ترقی کے آثار دیکھ رہے ہیں۔شاید اسلام کا شیر جوابھی ہمیں سوتا نظر آتا ہے بیداری کی طرف مائل ہے۔شاید اس کے جسم پر ایک خفیف سی کپکپی وارد ہو رہی ہے۔جو ابھی دوستوں کو تو نظر نہیں آتی مگر دشمن اس کو دیکھ چکا ہے۔آپ نے یہودیوں کی نئی سازش کے بھیانک پہلؤوں کی طرف مسلمانوں کی توجہ مبذول کراتے ہوئے فرمایا دیہی دشمن ایک مقتد رحکومت کی صورت میں مدینہ کے پاس سراٹھانا چاہتا ہے۔شاید اس نیت سے کہ اپنے قدم مضبوط کر لینے کے بعد وہ مدینہ کی طرف بڑھے گا۔جو مسلمان یہ