سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 318 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 318

318 رہی تھیں جبکہ عرب فوجیں اب تیار ہونی شروع ہوئی ہیں۔عربوں کو بندر گاہ مل جانے کا ان کو اتنا فائدہ نہیں ہوگا کیونکہ عرب سمندر کی طرف سے نہیں آرہے لیکن یہودی سمندر کی طرف سے آ رہے ہیں۔پس قبل از وقت ان علاقوں کو چھوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ یہودی زیادہ سے زیادہ اور یہودیوں کو اپنے علاقے میں داخل کر سکیں اور ان کی طاقت مضبوط ہو۔پس تل عودد کا چھوڑ دینا یہودیوں کی طاقت بڑھانے کا باعث ہوگا لیکن یافہ کو چھوڑنے سے صرف عربوں کی تجارت کو فائدہ ہوسکتا ہے۔برطانیہ کی اس سکیم میں یہودیوں کو فائدہ ہے۔(۱۳) حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے بروقت انتباہ فرمایا تھا کہ تقسیم کے فیصلے کے بعد بھی فلسطین میں عربوں کے اردگرد ایک خوفناک سازش کا جال بنا جا رہا تھا۔کچھ علاقہ اقوام متحدہ کے ذریعہ متھا یا گیا تھا اور کچھ جنگ کر کے ہتھیانے کی تیاری ہو رہی تھی۔لیکن بدقسمتی سے عرب نہ تو یہودیوں کی تیاری کا صحیح اندازہ لگا پارہے تھے اور نہ انہیں آنے والے خطرات کا کوئی اندازہ تھا۔تقسیم کے اس منصوبے نے نہ قابل عمل بننا تھا اور نہ بنا۔دسمبر ۱۹۴۷ء میں پورا فلسطین خونریز فسادات کی زد میں آچکا تھا۔اور ۱۹۴۸ء کے آغاز میں جگہ جگہ پر مسلح تصادم ہو رہے تھے۔نتیجہ یہ نکلا کہ یہ مسئلہ اب اقوام متحدہ کی سیکیو رٹی کونسل کے سامنے پیش ہوا۔اب امریکہ کے مندوب سیکیورٹی کونسل میں یہ تجویز پیش کر رہے تھے کہ ان حالات میں فلسطین میں اقوام متحدہ کی ٹرسٹی شپ قائم کر دی جائے۔اور فلسطین پر ایک گورنر جنرل مقرر کیا جائے۔اور اپریل میں بھی جو جنرل اسمبلی کا اجلاس بلایا گیا اس میں بھی امریکہ کی طرف سے ٹرسٹی شپ کی تجویز پیش کی گئی۔ابھی سیاسی منظر پر یہ لے دے جاری تھی کہ برطانیہ نے ایک اور قدم اُٹھایا۔قانوناً فلسطین پر برطانیہ کا مینڈیٹ یکم اگست تک جاری رہ سکتا تھا لیکن ۴ امئی کو برطانیہ نے فلسطین پر اپنا مینڈیٹ ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔اور فوراً ہی یہودیوں کی کونسل نے فلسطین میں اسرائیل کے نام سے یہودی ریاست قائم کرنے کا اعلان کر دیا۔جب اس کی اطلاع صدر ٹرومین کو ملی تو انہوں نے پانچ منٹ کے اندر اس نئی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا۔یہ سب کچھ اتنی عجلت میں کیا گیا کہ خود اقوام متحدہ میں امریکی سفیر بھی حیران رہ گئے۔وہ بیچارے ابھی تک نیو یارک میں ٹرسٹی شپ کی تجویز کے لئے تگ و دو کر رہے تھے۔جلد ہی روس اور دیگر ممالک نے بھی اسرائیل کی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کرنا شروع کر دیا۔اور فوراً ہی