سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 22 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 22

22 22 یوگوسلاویا: ۱۳۸۹ میں کوسووو ( Kosovo) کے مقام پر سر بیا اور ترکی کی فوجوں میں ایک خوفناک جنگ ہوئی۔اس معرکے میں ترکی اور سر بیا کے بادشاہ مارے گئے۔ان دونوں کے جانشینوں نے جنگ کی بجائے صلح کا راستہ اختیار کیا اور سر بیا نے اپنے علاقے پر ترکی کی محدود حکمرانی قبول کر لی اور سر بیا کے بادشاہ نے اپنی بہن کی شادی ترکی کے نئے سلطان سے کر دی۔اس واقعے کے بعد رفتہ رفتہ اس علاقے میں اسلام پھیلنے لگا۔اس علاقے کے لوگ زیادہ تر آرتھوڈوکس(Orthodox) چرچ سے تعلق رکھتے تھے۔کیتھولک سلطنتیں چاہتی تھیں کہ ان کو رومن کیتھولک بنا دیں۔کہا جاتا ہے کہ ایک موقع پر اس علاقے میں ہنگری اور ترکی کے درمیان خوفناک جنگ ہو رہی تھی۔سر بیا کے حاکم نے ہنگری کے بادشاہ سے پوچھا کہ اگر تمہاری فتح ہوئی تو کیا کرو گے،اس نے جواب دیا کہ میں سر بیا میں رومن کیتھولک چرچ کو مستحکم کروں گا۔اس نے یہ سوال ترکی کے سلطان کو بھجوایا تو اس نے جواب دیا کہ ہر مسجد کے ساتھ چرچ بھی بنایا جائے گا اور ہر شخص کو اپنی پسند کا مذہب اختیار کر کرنے کی اجازت ہو گی۔نہ صرف سربیا کے باشندوں نے بلکہ ان کے پادریوں نے بھی ترکی کا ساتھ دیا اور ترکی کو فتح ہوئی۔یوگوسلاویا کے جنوب میں کوسووو کے علاقے میں البانیہ سے رومن کیتھولک بڑی تعداد میں آکر آباد ہوئے تھے۔ان کی اکثریت مذہب تبدیل کر کے اسلام میں داخل ہو گئی تھی۔(۱) جماعت احمدیہ نے یوگوسلاویا میں تبلیغی مساعی کا آغاز ۱۹۳۶ء کے آخر میں کیا۔اس وقت یوگوسلاویا کی چوتھائی آبادی مسلمان تھی اور ملک کی اکثریت عیسائی تھی۔مسلمانوں کی اکثریت پسماندہ تھی اور ان کے امام حکومت سے تنخواہ پاتے تھے۔۔جب مولوی محمد دین صاحب البانیہ سے یہاں پر پہنچے۔اس سے قبل مصر سے آنے والے بعض اخبارات کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی کا ذکر یہاں تک پہنچ چکا تھا۔بلغراد میں تبلیغ کا آغاز کیا گیا اور جلد ہی دو نفوس جماعت میں داخل ہوئے۔کوسووو کے علاقے میں ایک البانین احمدی شریف و وتسا (Votsa) صاحب سات گاؤں پر انسپکٹر تھے۔مولوی محمد دین صاحب ان کے ساتھ کوسووو گئے اور تبلیغ شروع کی