سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 307 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 307

307 صرف انہیں ٹھکانا مہیا کریں ، انہیں پناہ دیں بلکہ ایک ریاست بھی دیں تا کہ وہ عربوں پر حکومت کر سکیں۔کیا ہی سخاوت ہے۔کیا ہی انسانیت ہے۔جب دوسری سب کمیٹی نے یہ تجویز پیش کی کہ یہودی پناہ گزینوں کو ان کے اپنے ممالک میں رہنے کی جگہ دی جائے تو آسٹریلیا نے انکار کر دیا، کینیڈا نے انکار کر دیا ، ریاست ہائے متحدہ امریکہ نے انکار کر دیا۔ایک پہلو سے یہ بات حوصلہ افزا تھی کہ شاید یہ پناہ گزین سابقہ خوفناک تجربات کی بنا پر انہی ممالک میں جانا پسند نہ کریں جہاں سے وہ نکلے تھے۔جب یہ تجویز کیا گیا کہ سب ممبر ممالک اپنی اپنی استعداد کے مطابق ان پناہ گزینوں کو جگہ دیں تو کیا ہوا؟ کیا آسٹریلیا کوئی چھوٹا ملک تھا؟ کثرت آبادی کا شکار تھا ؟ اس نے کہا نہیں ! نہیں !نہیں! کیا کینیڈا میں بھی آبادی بہت زیادہ ہو گئی تھی ؟ اس نے بھی کہا کہ نہیں ! اور امریکہ ایک عظیم انسانیت دوست ملک، اس کا رقبہ بھی چھوٹا ہو گیا ، اس کے پاس وسائل نہیں تھے۔اس نے بھی کہا کہ نہیں! کیا یہ ممالک انسان دوستی کے اصولوں کے لئے یہی کچھ کر سکتے ہیں۔مگر پھر یہی ممالک کہتے ہیں کہ ان یہودیوں کو فلسطین جانے دو وہاں تو بہت زیادہ علاقہ پڑا ہے،فلسطین کے پاس بہت زیادہ اقتصادی وسائل ہیں۔اس سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ایک طرف تو مغربی حکومتیں جمہوریت کی علمبر دار بن رہی تھیں اور دوسری طرف وہ فلسطین کے عوام کو یہ حق دینے پر تیار نہیں تھیں کہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کریں۔جیسا کہ مغربی ممالک میں عوام کو حق ہے کہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ خود کریں لیکن ان کی حکومتیں فلسطین کے عوام کو یہ حق دینے کو تیار نہیں تھیں۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے اس تضاد کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا کہ مغربی حکومتیں عملاً اس بات کا اعلان کر رہی ہیں دہم فلسطین کو آزاد اور خود مختار کہیں گے لیکن عملاً یہ ہماری ملکیت ہوگا۔پہلے ہم فلسطین کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کریں گے۔تین ٹکڑے یہودی ٹکڑے ہوں گے اور تین ٹکڑے عرب ٹکڑے ہوں گے۔پھر ہم جافا کے حصے کو کاٹ کر علیحدہ کریں گے۔اور فلسطین کا دل، یروشلم ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ایک بین الاقوامی شہر رہے گا۔یہ آغاز ہے اُس صورت کا جو فلسطین کو دی جائے گی۔جب فلسطین کے جسم کو اس طرز پر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا تو پھر ہم اس جسم کو جس سے خون رس رہا ہو گا ہمیشہ کے لئے صلیب پر کھینچ دیں گے۔اور یہ