سلسلہ احمدیہ — Page 301
301 تقریر کی۔اور اس کے بعد صدر جنرل اسمبلی نے اعلان کیا کہ اور ممالک کے نمائیندوں نے اظہارِ رائے کی خواہش کا اظہار کیا ہے اور اب ان کی تعداد بڑھ کر تیرہ ہو چکی ہے۔اس کے بعد سعودی عرب کے مندوب شہزادہ فیصل کی تقریر شروع ہوئی۔(شہزادہ فیصل بعد میں سعودی عرب کے بادشاہ بنے تھے )۔انہوں نے ایک مختصر خطاب میں کہا کہ آج فلسطین کا نہیں اقوام متحدہ کا دن ہے اگر تقسیم کو منظور کیا گیا تو یہ ایک جارح کو ملک کا ایک حصہ دینے کے مترادف ہوگا۔انہوں نے جذباتی الفاظ میں ممبران سے اپیل کی کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق تقسیم کے خلاف ووٹ دیں۔اب تک مسلمان ممالک تجویز کی مخالفت میں اظہار تو کر رہے تھے لیکن ان بیانات میں ٹھوس دلائل ، اور اعداد و شمار اور حقائق کی بجائے ایک جذباتی رنگ زیادہ نمایاں تھا۔وہ اس تقسیم کے خلاف مضبوط قانونی دلائل نہیں پیش کر رہے تھے اور اس تقسیم کی تفاصیل میں بھی جو عرب آبادی کے ساتھ واضح مظالم روا ر کھے گئے تھے ، اُن کا منظم طریق پر تجزیہ بھی نہیں کر رہے تھے۔شہزادہ فیصل نے اپنی تقریر میں کوئی خاص دلیل پیش ہی نہیں کی تھی ، صرف جذبات کا اظہار کیا تھا۔ان کے بعد شام کے سفیر نے تقریر کی تو غیر متعلقہ دلائل میں الجھ گئے اور اس رو میں بہت آگے نکل گئے۔انہوں نے Jewish Encyclopedia اور امریکہ کے ایک مصنف اور کولمبیا یونیورسٹی کے دو پروفیسروں کے حوالے دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یورپ کے یہودی اصل میں تو روس کے ایک قبیلے خازار سے تعلق رکھتے ہیں اور حضرت ابراہیم کی نسل سے نہیں ہیں۔اس بحث سے فارغ ہوئے تو انہوں نے پولینڈ کے نمائیندے کو یاد کرایا کہ جب ان کے ملک کو تقسیم کرنے کی سازش ہو رہی تھی تو سلطنت عثمانیہ کی سلطنت نے اس کی مخالفت کی تھی۔پھر وہ امریکہ کے نمائندے کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں باور کرایا کہ وہ دنیا میں ہر جگہ کمیونزم کے خلاف مالی وسائل خرچ کر رہا ہے تو پھر وہ اس بات کو برداشت کیوں کر رہا ہے کہ سوویت یونین سے اتنی بڑی تعداد میں یہودی نقل مکانی کر کے فلسطین منتقل ہورہے ہیں۔عربوں کا مؤقف سراسر انصاف اور قانون کے مطابق تھا۔اور تقسیم کی تجویز ہر لحاظ سے خلاف انصاف تھی۔اتنے مضبوط مؤقف کے ہوتے ہوئے کمزور دلائل کی طرف رجوع کرنا صرف اپنے آپ کو کمزور کرنے کے مترادف تھا۔ایڈ ہاک کمیٹی میں تو حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے ہی تقریباً تمام ترامیم اور دلائل پیش کئے تھے۔لیکن جنرل اسمبلی میں ہر مندوب کو اپنے