سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 296 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 296

296 والا تھا۔انہوں نے نے کہا کہ ہمارا وفد اس بحث کے آخری مرحلہ میں بہت سے شکوک وشبہات کے ساتھ شامل ہو رہا ہے۔اس کے بعد انہوں نے واضح طور پر اعلان کیا کہ تمام کارروائی کے سنے اور رپورٹ کے مطالعہ کے بعد ان کی حکومت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ وہ تقسیم فلسطین کی تجویز کی حمایت نہیں کر سکتی۔اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام قانونی آراء کا مطالعہ کیا ہے، خواہ Mandatory Power کو بین الاقوامی معاہدے کے نتیجے میں اختیار ملا ہو، فلسطین کے باشندوں کو اس بنیادی حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اپنے وطن کی وحدت کو برقرار رکھیں۔ماضی قریب میں ہمارے ملک کو بھی ایک طاقت نے اس قسم کی وجوہات کا سہارا لے کر تقسیم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن فلپائن کے لوگوں نے بڑی قوت سے اس کوشش کا مقابلہ کیا تھا۔اور یونائیٹڈ اسٹیٹس کی کانگرس میں اپنے مؤقف کو بڑے زور سے پیش کیا تھا۔اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج فلپائن کی وحدت قائم ہے اور وہ اقوام متحدہ میں فلسطین کے متعلق اس تجویز کی مخالفت کر رہا ہے۔مسٹر رومیلو نے کہا کہ ہم اُن مظالم سے غافل نہیں ہیں جو یہودیوں پر ہوئے ہیں۔جب ہٹلر کے جرمنی میں یہودیوں پر مظالم ہو رہے تھے تو فلپائن اُن چند ممالک میں سے تھا جس نے اپنے دروازے اُن کے لئے کھول دیئے تھے۔لیکن اگر یہودیوں کو کچھ ممالک سے نکلنے پر مجبور کیا گیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اُن کی ایک علیحدہ ریاست قائم کر دی جائے۔اپنی تقریر کے آخر میں انہوں نے کہا اس مختصر تبصرے کے آخر پر میں اپنی حکومت کی طرف سے یہ بیان دینا چاہتا ہوں کہ ہم معذرت خواہ ہیں کہ ہم نہ ہی کسی ایسے منصوبے کی تائید کر سکتے ہیں اور نہ ہی ایسے منصوبے میں حصہ لے سکتے ہیں جس میں فلسطین کی سیاسی تقسیم کی گئی ہو یا ایسے عمل کی حوصلہ افزائی کی گئی ہو جس کے نتیجے میں اس مقدس سرزمین کی قطع و برید کی جائے۔“ فلپائن کا دوٹوک اظہار ان طاقتوں کے لئے خطرے کی گھنٹی تھا جو فلسطین کی تقسیم پر تلی بیٹھی تھیں۔اس کے بعد یمن کے مندوب نے تقسیم کی تجویز کے خلاف تقریر کی اور کہا کہ فلسطین کے عرب باوجود اس حقیقت کے کہ فلسطین کے اکثر یہودی کچھ عرصہ قبل نقل مکانی کر کے فلسطین میں آئے ہیں، ان یہودیوں کو اپنے ملک میں برابر کے حقوق دینے کو تیار تھے مگر اس کے باوجود فلسطین کو دو