سلسلہ احمدیہ — Page 294
294 قرار داد جنرل اسمبلی میں پیش ہوتی ہے: مگر صرف بیانات سے عالمی سازشوں کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔اب اس قرار داد کو جنرل اسمبلی میں پیش کرنے کا وقت آ رہا تھا۔جنرل اسمبلی میں ہرا ہم قرارداد کی منظوری کے لئے دو تہائی اکثریت حاصل ہونا ضروری ہوتی ہے۔ابھی تک تقسیم فلسطین کے حامیوں کو واضح طور پر یہ اکثریت حاصل نہیں ہوسکی تھی۔لیکن دوسری جنگ عظیم کے معا بعد غریب ممالک تو ایک طرف رہے خود یورپ کے ترقی یافتہ ممالک بھی انتہائی کمزوری کی حالت میں تھے اور بہت سے امور میں امریکہ کے مرہونِ منت تھے یا پھر باقی ممالک سوویت یونین کے زیر اثر تھے۔اس لئے ان طاقتوں کا دباؤ رائے کو بدلنے کا باعث بن رہا تھا۔بعض ممالک کے متعلق ابھی پختہ علم نہیں تھا کہ وہ کس طرف رائے دیں گے ان میں سے ایک لائیپیر یا بھی تھا۔لائیپیر یا ایڈ ہاک کمیٹی میں تقسیم فلسطین کی تجویز پر غیر جانبدار رہا تھا لیکن جب حضرت چوہدری صاحب کی تجویز پیش ہوئی کہ پہلے عالمی عدلات سے یہ استفسار کرنا چاہیے کہ جنرل اسمبلی یہ فیصلہ کرنے کی مجاز بھی ہے کہ نہیں تو اس نے اس تجویز کی حمایت میں ووٹ دیا تھا۔اور ابھی اس کی طرف سے اظہار رائے نہیں ہوا تھا۔جنرل اسمبلی کے اجلاس میں جانے سے پہلے حضرت چوہدری صاحب لائیبیریا کے مندوب مسٹر ڈینس سے ملنے اُن کے ہوٹل گئے۔اور ان کی رائے کے متعلق استفسار کیا۔انہوں نے کہا کہ میری ذاتی ہمدردی تو عربوں کے ساتھ ہے اور اب تک ہماری حکومت کی ہدایت بھی یہی ہے کہ تقسیم کے خلاف رائے دی جائے۔لیکن ہم پر امریکہ کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔تم کوشش کرو کہ آج رائے شماری ہو جائے۔اس صورت میں ہم تقسیم کے خلاف رائے دیں گے۔لیکن اگر آج رائے شماری نہ ہوئی تو معلوم نہیں کیا صورت ہو۔پھر حضرت چوہدری صاحب کی موجودگی میں اپنی سیکریٹری کو کہا کہ میں اسمبلی کے اجلاس کے لئے جا رہا ہوں اگر میرے نام کوئی پیغام آئے تو مجھے مت بھجوانا۔پھر چوہدری صاحب کو مخاطب کر کے کہا کہ دیکھ لیں میں نے آج کا تو انتظام کر دیا ہے۔اس سے یہی لگتا ہے کہ انہیں بھی خدشہ تھا کہ اگر دباؤ جاری رہا تو جلد ان کی حکومت و گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے۔لیکن اپنی ذاتی شرافت کی وجہ سے وہ یہی چاہتے تھے کہ وہ تقسیم کی قرارداد کی