سلسلہ احمدیہ — Page 291
291 ہوئی تو رہے سہے علاقے بھی ان کے ہاتھوں سے نکل گئے اور اس کا فائدہ یہودیوں کو ہی پہنچا۔(۷) معلوم ہوتا ہے کہ حضرت چوہدری صاحب نے نجف کے علاقے کے متعلق نقشہ میں جس نقص کی نشاندہی کی تھی، اس سے تقسیم کی حمایت کرنے والوں نے کچھ خجالت ضرور محسوس کی تھی کیونکہ کمیٹی کے اٹھائیسویں اجلاس میں یہودیوں کی نمائندے نے یہ پیشکش کی کہ تقسیم کی تجویز میں یہ ترمیم کر دی جائے کہ مصر کے ساتھ نجف کا کچھ علاقہ اور بیر شیبا کو عربوں کی ریاست میں شامل کر دیا جائے۔بہر حال اب تک یہ واضح ہو چکا تھا کہ بڑی طاقتیں تقسیم فلسطین کی تجاویز منظور کرا کر رہیں گی۔ایڈ ہاک کمیٹی میں رائے شماری ہوتی ہے۔جب ۲۴ نومبر ۱۹۴۷ء کو ایڈ ہاک کمیٹی میں رائے شماری کا وقت آیا تو اُس دوسری سب کمیٹی کی آراء پر رائے شماری شروع ہوئی، جس کی اراکین میں پاکستان اور عرب ممالک شامل تھے۔پہلا مسئلہ اُن قانونی مسائل کا تھا جن کی نشاندہی حضرت چوہدری صاحب نے فرمائی تھی۔یہ کل آٹھ نکات تھے جن کو ایک سوال کی صورت میں عالمی عدالت انصاف کی طرف بھیجوانے کی سفارش کی جا رہی تھی۔فرانس کے نمائندے نے تجویز دی کہ پہلے سات نکات کے متعلق ایک ساتھ رائے شماری کی جائے اور آٹھویں نکتہ کے بارے میں علیحدہ رائے شماری ہو۔آٹھواں نکتہ یہ تھا کہ کیا اقوام متحدہ کو یہ اختیار ہے کہ وہ فلسطین کی عوام کی منظوری کے بغیر اُس کی مستقبل کی حکومت کے متعلق یا اُس کی تقسیم کے متعلق کسی تجویز کو منظور کر کے فلسطین کے لوگوں پر اسے نافذ کرے؟ اور یہ بڑا اہم سوال تھا۔اگر اقوام متحدہ کو یہ اختیار ہی نہیں تھا تو پھر کسی تجویز کی منظور ہونے یا نا منظور ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں رہتا تھا۔پہلے آٹھ سوالوں کے بارے میں رائے شماری ہوئی تو اس بات کے حق میں کہ ان سوالات کے بارے میں عالمی عدالت انصاف سے استفسار کیا جائے اٹھارا ، اس کے خلاف پچپیں ووٹ ڈالے گئے اور گیارہ ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا اور غیر جانبدار رہے۔جب سب سے اہم آٹھویں سوال پر رائے شماری ہوئی تو میں ممالک نے یہ رائے دی کہ اقوام متحدہ کو یہ حق حاصل نہیں ہے اور اس بارے میں عالمی عدالت انصاف سے استفسار کرنا چاہیے۔اکیس ممالک نے یہ رائے دی کہ اقوام متحدہ یہ قدم اُٹھا سکتی ہے اور تیرہ ممالک غیر جانبدار رہے۔تمام تر دباؤ کے