سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 286 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 286

286 کو تقسیم کر دینے کیسے حق میں ووٹ دیں۔اُس وقت تک چند مسلمان ممالک آزادی حاصل کر کے اقوام متحدہ کے ممبر بنے تھے۔ان کو کسی قسم کی طاقت بھی حاصل نہیں تھی۔اور وہ میدان میں تقریباً مکمل طور پر تنہا نظر آ رہے تھے۔ایڈ ہاک کمیٹی کام شروع کرتی ہے۔۲۵ ستمبر کو اس ایڈ ہاک کمیٹی کا اجلاس ہوا اور آسٹریلیا کے مندوب مسٹر یوٹ (H۔V۔Evatt) کو اس کمیٹی کا صدر سیام ( موجودہ تھائی لینڈ) کے مندوب پرنس سبھا سواستی (Subha Svasti) کو نائب صدر اور آئس لینڈ کے نمائندے کو کمیٹی کا Rapporteur منتخب کیا گیا۔اب تک یہ صورت حال تھی کہ دو تجاویز سامنے آ رہی تھیں پہلی تجویز جس کی حمایت سوویت یونین ، امریکہ اور یہودیوں کی تنظیم کر رہی تھی وہ یہ تھی کہ فلسطین کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ایک حصہ میں یہودیوں کی ریاست بنے اور دوسرے حصہ میں فلسطین کی ریاست ہو۔دونوں حصے آزاد ہوں اور ان کے درمیان اقتصادی اتحاد ہو۔چند سال قبل حکومت برطانیہ نے تقسیم کی تجویز کو نا قابل عمل قرار دیا تھا۔بلکہ یہودیوں کی فلسطین آمد پر پابندیاں لگانے کا اعلان بھی کیا تھا۔کیونکہ اس سارے عمل سے فلسطین کے مقامی باشندوں کے حقوق بری طرح متاثر ہوتے تھے۔لیکن آج اسی تجویز کو نوزائدہ اقوام متحدہ سے منظور کرانے کے لئے ہر قسم کا نا جائز دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔اور دوسری تجویز مسلمان ممالک سعودی عرب اور عراق کی طرف سے پیش کی گئی تھی کہ فلسطین پر برطانوی اقتدار ختم کر کے اسے ایک آزاد مملکت کا درجہ دیا جائے اور اس کی وحدت برقرار رکھی جائے۔ابھی پاکستان کو معرض وجود میں آئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا اور خود عرب ممالک بھی پاکستان کی پالیسی کے متعلق وثوق سے کچھ نہیں کہہ سکتے تھے۔حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے اُس وقت کے ماحول کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا ہے۔جب پاکستان کی طرف سے میں نے پہلی بار تقریر شروع کی تو عرب نمائندگان کو کچھ اندازہ نہیں تھا کہ میری تقریر کا رخ کس طرف ہوگا۔پاکستان ایک دو دن قبل ہی اقوام متحدہ کا رکن منتخب ہوا تھا۔عرب ممالک کے مندوبین ہمیں خاطر میں ہی نہیں لاتے تھے