سلسلہ احمدیہ — Page 283
283 کے ہاتھوں میں تھی۔فلسطین کا علاقہ دیکھتے دیکھتے عربوں کے ہاتھوں سے نکل رہا تھا۔ان سب واقعات کی تفاصیل کو چھوڑتے ہوئے ہم ۱۹۴۷ء میں تاریخ کے اس اہم موڑ پر آتے ہیں۔جب صیہونی تنظیم اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے اب فلسطین کے علاقہ کو تقسیم کرنے کا مطالبہ کر رہی تھی تا کہ وہ اس کے ایک حصہ پر اپنی ریاست بنائیں اور پھر پہلے سے طے شدہ منصوبہ کے تحت اس کو وسیع کرنے کا مرحلہ شروع ہو۔اس مرحلے کا جماعت کی تاریخ سے دو طرح کا تعلق ہے۔اُن دنوں حضرت مصلح موعودؓ نے بارہا ان حالات کا تجزیہ ، مضامین کی صورت میں شائع فرمایا تاکہ مسلمان عوام اور ان کی حکومتوں کو میں یہ احساس پیدا کیا جا سکے کہ ان کے ارد گرد ایک خوفناک سازش کا جال بچھایا جا رہا ہے۔اور بعد کے واقعات نے حضور کے خدشات کی تصدیق کی۔جس وقت یہ مسئلہ اقوام متحدہ میں پیش کیا جا رہا تھا اُس وقت حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کو اقوام متحدہ میں پاکستان کا نمائیندہ مقرر کیا گیا تھا۔ابھی پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ کی حیثیت سے آپ کا تقررنہیں ہوا تھا۔آپ نے عالمی سطح پر فلسطین کے مظلوم عوام کے حقوق کے لئے جو جد و جہد کی ، غیر بھی اُس کا اعتراف کئے بغیر نہ رہ سکے۔یہاں پر ہم حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کی خدمات کا تفصیل سے جائزہ لیں گے کیونکہ مخالفین نے اس حوالے سے جماعت پر اور حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کی شخصیت پر بار بار اعتراضات کیسے ہیں اور یہ عمل اب تک جاری ہے۔اس مقصد کے لیے ان مخالفین نے بہت سی غلط بیانیوں سے کام لیا ہے اور بہت سے حقائق کو چھپایا ہے۔اس لئے قدرے تفصیل کے ساتھ صحیح حقائق کا ذکر ضروری ہے۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کو پہلے ہی سے مسئلہ فلسطین میں بہت دلچسپی تھی۔۱۹۳۴ء تک صیہونیت فلسطین میں اپنا قدم جما چکی تھی اور اس کا اقتدار بڑھ رہا تھا۔اس سال حضرت چوہدری صاحب لندن گئے تو انہوں نے وزیر ہند سے اپنے خدشات کا ذکر کیا کہ اور کہا کہ اس صورتِ حال کی ذمہ داری برطانوی حکومت پر عائد ہوتی ہے ،اس لئے حکومت کو لازم ہے کہ وہ کوئی مؤثر اصلاحی اقدام کرے۔مثلاً عرب زرعی اراضیات کا انتقال غیر عرب خریداروں کے نام قانوناً روکا جائے۔وزیر ہند نے کہا کہ مجھے ان تفصیلات کا علم نہیں لیکن میں نو آبادیات کے وزیر سر فلپ کنلف لسٹر سے یہ ذکر کروں گا اور انہیں کہوں گا کہ تمہیں بلا کر تمہارا نقطہ نظر معلوم کریں