سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 281 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 281

281 کریں گے، ترکی کی بحریہ کو بنانے میں مدد کرنے کے علاوہ ترکی کے سلطان کی عالمی سطح پر مدد کی جائے گی۔لیکن اس کوشش میں کامیابی نہیں ہوئی اور انہیں یہ جواب ملا کہ یہودی کو صرف اس صورت میں فلسطین ملے گا جب ترکی سلطنت عثمانیہ ٹوٹ جائے گی۔صیہونی شروع ہی سے سلطنت برطانیہ کو اپنا ہم نوا بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔۱۹۰۲ء میں تھیوڈر ہرل نے برطانیہ کے لارڈ رانتھس چائیلڈ (Rothschild) کو اپنا ہم نوا بنانے کی کامیاب کوشش کی۔اس دوران بینک بنا کر ، فر میں بنا کر اور فلسطین میں کچھ زمین لے کر ابتدائی کام کا آغاز بھی کر دیا گیا تھا۔پہلی جنگِ عظیم میں ترکی کی سلطنت عثمانیہ نے جرمنی کا ساتھ دیا اور شکست کے بعد فاتح طاقتوں نے اس سلطنت کے حصے بخرے کر دئیے۔۱۹۱۷ء میں سلطنتِ برطانیہ نے ایک اعلانیہ جاری کیا جو Lord Rothschild کے نام ، جو صیہونی لیڈروں کے عزائم کی حمایت کر رہے تھے ، ایک خط کی صورت میں تھا۔اس کے الفاظ یہ تھے His Majesty's Government view with favour the establishment in Palestine of a national home for the Jewish people, and will use their best endeavours to facilitate the achievement of this object, it being clearly understood that nothing shall be done which may prejudice the civil and religious rights of existing non-Jewish communities in Palestine, or the rights and political status enjoyed by Jews in any other country۔یعنی برطانیہ کے بادشاہ کی حکومت اس بات کی حمایت کرتی ہے کہ فلسطین میں یہودیوں کے رہنے کے لئے ایک وطن بنایا جائے اور حکومت اس مقصد کے لئے ہر ممکن کوشش کرے گی۔اور یہ بات واضح ہے کہ ایسا کوئی قدم نہیں اُٹھایا جائے گا جس سے فلسطین میں آباد غیر یہودی گروہوں کے شہری یا مذہبی حقوق متاثر ہوں۔یا دوسرے ممالک میں موجود یہودیوں کے حقوق یا سیاسی حیثیت متاثر ہو۔صیہونیوں کے لئے یہ ایک بڑی کامیابی تھی۔اس اعلان کا یہ نقطہ نا قابل فہم ہے کہ کوئی طاقت