سلسلہ احمدیہ — Page 280
280 یا ساعت دیگر جس سے تختہ ثانیہ مراد ہے یا نزول عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر سے تو ہم تم سب کو موقف قیامت میں جمع کریں گے۔(۱) اسی طرح علامہ ثناء اللہ عثمانی اپنی تفسیر ، تفسیر مظہری میں لکھتے ہیں، کلبی کے نزدیک وعدہ آخرت آنے سے مراد ہے حضرت عیسی کا آسمان سے آنا اور جئنا بکم لفیفا کا یہ مطلب ہے کہ ادھر ادھر ہر طرف سے مختلف اقوام آئیں گی۔(۲) اس آیت کریمہ کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت خلیفہ اسیح الثانی تحریر فرماتے ہیں اور تفسیر کبیر کا یہ حصہ پہلی مرتبہ ۱۹۴۰ء میں شائع ہوا۔پھر جس طرح موسی سے تیرہ سو سال بعد حضرت مسیح کے صلیب کے واقعہ کے بعد جب کہ گویا وہ بظاہر اس ملک کے لوگوں کے لئے مر گئے تھے بنی اسرائیل کو ارض مقدس سے دوبارہ بیدخل کر دیا گیا۔اسی طرح اس زمانہ میں جبکہ رسول کریم ﷺ کی وفات پر اتنا ہی عرصہ گذرا ہے مسلمانوں کی حکومت پھر ارضِ مقدس سے جاتی رہی ہے۔اور جیسا کہ قرآنِ کریم نے فرمایا تھا مسلمانوں کا یہ دوسرا الله عذاب یہود کے لئے ارضِ مقدس میں واپس آنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔(۳) تاریخی پس منظر : چنانچہ قرآنِ کریم میں مذکور پیشگوئی کے مطابق جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ظہور کا وقت آیا تو یہودیوں کے دلوں میں اس خواہش نے شدت سے اُٹھنا شروع کیا کہ وہ دوبارہ ارضِ موعود میں آباد ہونے کی کوشش شروع کریں۔۱۸۹۶ء میں آسٹریا کے یہودی لیڈر تھیوڈر ہرل (Theodre Herzl) نے اپنی کتاب یہودی ریاست (Jewish State) شائع کی جس میں فلسطین میں یہودیوں کی ریاست قائم کرنے کا نظریہ پیش کیا گیا تھا۔اور اس میں لکھا گیا تھا کہ اس ریاست کے قیام سے پوری دنیا میں یہودیوں کو پیش آنے والے مصائب ختم ہو جائیں گے۔۱۸۹۷ء میں پہلی عالمی صیہونی کانگرس منعقد کی گئی جس میں فلسطین میں یہودیوں کے لئے ایک وطن بنانے کے عزم کا اعلان کیا گیا۔یہ علاقہ اُس وقت ترکی کے سلطان کے ماتحت تھا۔پہلے یہودیوں نے ترکی کے سلطان سے رابطہ کر کے فلسطین میں آباد کاری کی اجازت مانگی اور ایک مرحلہ پر یہ پیشکش بھی کی کہ اگر اس کی اجازت دے دی جائے تو ترکی کے قرضہ کا ایک حصہ یہودی ادا