سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 279 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 279

279 فلسطین کا المیہ اور جماعت احمدیہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں بنی اسرائیل پر نازل ہونے والے عذابوں کے ذکر کے بعد فرماتا ہے وَقَطَعْنُهُمْ فِي الْأَرْضِ أُمَمَّا مِنْهُمُ الصَّلِحُونَ وَمِنْهُمْ دُونَ ذلِكَ وَبَلَوْنُهُمْ بِالْحَسَنَتِ وَالسَّيَّاتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (الاعراف: ١٦٩) ترجمہ : اور ہم نے انہیں زمین میں قوم در قوم بانٹ دیا۔ان میں نیک لوگ بھی تھے اور انہی میں اس کے علاوہ بھی تھے۔اور ہم نے ان کو اچھی اور بری حالتوں سے آزمایا تا کہ وہ ( ہدایت کی طرف لوٹ آئیں۔اور پھر قرآن کریم ان کے مستقبل کے بارے میں یہ پیشگوئی کرتا ہے و قُلْنَا مِنْ بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَاعِيْلَ اسْكُنُوا الْأَرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيقًا (بنی اسرائیل : ۱۰۵) ترجمہ : اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ موعودہ سرزمین میں سکونت اختیار کرو۔پس جب آخرت کا وعدہ آئے گا تو ہم تمہیں پھر اکٹھا کر کے لے آئیں گے۔یہاں پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب وعد الآخرة آئے گا تو ہم تمہیں یعنی بنی اسرائیل کو پھر اکھٹا کر کے لے آئیں گے۔یہاں پر مفسرین نے یہ بحث اُٹھائی ہے کہ وعد الآخرۃ سے کیا مراد ہے ؟ جس کے ظہور کے ساتھ بنی اسرائیل کو ایک مرتبہ پھر اکٹھا کر کے ارض موعود یعنی فلسطین میں جمع کیا جائے گا۔بہت سے مفسرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ وعد الآخرة سے مراد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہے۔چنانچہ تفسیر فتح البیان فی مقاصد القرآن میں لکھا ہے کہ وعد الآخـرة سے حضرت عیسی کا آسمان سے نزول کرنا بھی لیا گیا۔اور پرانے علماء کی پیروی کرتے ہوئے بعد کے علماء بھی یہ لکھتے آئے ہیں کہ اس سے مراد حضرت عیسی کا ظہور ہے۔چنانچہ نواب صدیق حسن خان صاحب اپنی تفسیر ترجمان القرآن بلطائف البیان میں لکھتے ہیں، اب تم زمین شام و مصر میں جہان وہ تمہارا نکالنا چاہتا تہا اچھی طرح سے رہو پہر جب وعدہ آخرت کا آئیگا یعنے قیامت آئیگی یا نوبت دیگر