سلسلہ احمدیہ — Page 274
274 کی کس قد ر ا جازت ہوگی۔چنانچہ مودودی صاحب اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں ممثلاً اسلام اپنی مملکت کے کسی مسلم شہری کو یہ آزادی نہیں دیتا کہ وہ اس ملک کے اندر رہتے ہوئے اپنا دین تبدیل کرلے، یا ارکانِ دین کی بجا آوری سے انکار کرے۔۔۔لہذا شخصی آزادی کی یہ تعبیر دوسرے دستوروں میں چاہے جیسی کچھ بھی پائی جاتی ہو ، ہم کو اپنے دستور میں صاف صاف اس آزادی کی نفی کرنی پڑے گی۔(۲۱) قرآن کریم میں تو اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کر دیا تھا کہ دین کے معاملے میں کوئی جبر نہیں لیکن مودودی صاحب خدا تعالیٰ کے ارشاد کی نفی کر کے نام نہاد اسلامی مملکت کی بنیاد ہی جبر پر رکھ رہے ہیں۔اور نہ صرف یہ بلکہ اس ملک کی حکومت اس ملک کے باشندوں کو ارکانِ دین کی پابندی بھی کرائے گی۔اور وہ خواہ اسے پسند نہ کریں حکومت کی خواہش کے مطابق ارکانِ دین کی پابندی کرنے پر مجبور ہوں گے۔اس سے تو یہی لگتا ہے کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر ادارے لوگوں کو زبردستی نمازیں پڑھا رہے ہوں گے، ان کے گھروں میں جا جا کے دیکھیں گے کہ لوگ روزے بھی رکھ رہے ہیں کہ نہیں۔اگر کسی نے حج نہیں کیا تو اسے پہلے حبس بیجا میں رکھا جائے گا اور پھر زبر دستی حج کرنے کے لئے لے جایا جائے گا۔ظاہر ہے کہ اتنے وسیع پیمانے پر انتظامات کرنے کے لئے پولیس کی تعداد میں لاکھوں کا اضافہ کرنا پڑے گا اور مودودی صاحب کے مطابق ہزار میں صرف ایک مسلمان اس قابل ہے کہ اسے مسلمان کہا جا سکے تو سمجھ میں نہیں آتا کہ صالحین کی یہ پولیس آئے گی کہاں سے؟ اور مودودی صاحب حکومت کا فرض یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اس ملک میں اقامت صلوۃ اور ایتائے زکوۃ کا انتظام کرے۔حج کی تنظیم کرے اور مسلمانوں کو احکام اسلامی کا پابند بنائے۔وہ مسلمانوں کی انفرادی و اجتماعی زندگی کو ان برائیوں سے پاک کرنے کا انتظام کرے جو قرآن وسنت میں ممنوع ہیں۔(۲۱) اب یہ بھی ظاہر ہے کہ حکومت لوگوں کو نیکیوں پر کار بند کرے گی اور ان کی زندگیوں کو برائیوں سے پاک کرے گی ، تو یہ حق بھی حکومت کو ہی حاصل ہو گا کہ وہ فیصلہ کرے کہ نیکی کسے کہتے ہیں اور ان سب نیکیوں کو بجالانے کا صحیح طریق کیا ہے۔اور وہ ان بنیادی مسائل کو طے کر کے نیکی نافذ