سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 266 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 266

266 پرشور لام بندی اور دوسری طرف اسی تہذیب و تمدن کے باغیوں اور قاتلوں کی سرداری اور پیشوائی۔یہ دونوں چیزیں آخر کس طرح ایک ساتھ نبھ سکتی ہیں؟ (۱۰) تو مودودی صاحب کا نظریہ تھا کہ پاکستان کی تحریک چلانے والے خود اسلامی تہذیب و تمدن کے باغی اور قاتل ہیں۔اور قارون طبع لوگوں کی تائید کر رہے تھے۔مودودی صاحب کو مسلم لیگ کی ایک اور پالیسی پر شدید اعتراض تھا۔مسلم لیگ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کے نام پر وجود میں آئی تھی اور کم از کم مرکزی مسلم لیگ کی پالیسی یہ تھی کہ اس کے دروازے ہر اُس شخص کے لئے کھلے ہیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے۔اس اصول پر نکتہ چینی کرتے ہوئے مودودی صاحب لکھتے ہیں اب دیکھیے کہ یہ اپنی جماعت کی تشکیل کس ڈھنگ پر کرتے ہیں۔ان کا قاعدہ یہ ہے کہ یہ اُن سب لوگوں کو جواز روئے پیدائش مسلمان مسلمان قوم سے تعلق رکھتے ہیں اپنی جماعت کی رکنیت کا بلا وا دیتے ہیں اور جو اسے قبول کرے اسے ابتدائی رکن بنا لیتے ہیں۔۔۔یہ انبوہ عظیم جس کو مسلمان قوم کہا جاتا ہے، اس کا حال یہ ہے کہ اس کے ۹۹۹ فی ہزار افراد نہ اسلام کا علم رکھتے ہیں ، نہ حق اور باطل کی تمیز سے آشنا ہیں ، نہ ان کا اخلاقی نقطہ نظر اور ذہنی رویہ اسلام کے مطابق تبدیل ہوا ہے۔باپ سے بیٹے اور بیٹے سے پوتے کو بس مسلمان کا نام ملتا چلا آرہا ہے اس لیے یہ مسلمان ہیں۔نہ انھوں نے حق کو حق جان کر اسے قبول کیا ہے ، نہ باطل کو باطل جان کر اسے ترک کیا ہے۔ان کی کثرت رائے کے ہاتھ میں باگیں دے کر اگر کوئی شخص یہ امید رکھتا ہے کہ گاڑی اسلام کے راستے پر چلے گی اس کی خوش فہمی قابل دید ہے۔(۱۱) تو مودودی صاحب لکھ رہے ہیں مسلمانوں کی اکثریت اصل میں مسلمان ہے ہی نہیں۔بس مسلمان کا نام اُن کے ساتھ لگا ہوا ہے کیونکہ وہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔اور اگر ان کی رائے پر چلا گیا تو نظام اسلامی کبھی قائم نہیں ہوسکتا۔اس سوچ کے پیچھے اصل میں علماء کی ایک مخصوص سوچ کارفرما ہے اور وہ یہ کہ اصل میں صرف ہم ہی اس بات کے حقدار ہیں کہ ہماری رائے کو وقعت دی جائے۔اور اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اسلامی نظام لانا ہے تو ہماری آمریت قائم ہونی چاہئیے۔پھر مسلم لیگ کے قائدین پر ایک اور وار ان الفاظ میں کرتے ہیں اس موقع پر یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مسلم لیگ کے کسی ریزولیشن اور لیگ کے