سلسلہ احمدیہ — Page 263
263 مذہب جبراً عمل کرانے کی کوشش کریں۔یہ چیز یقیناً وہاں کے مسلمانوں کے لئے تباہ کن ثابت ہو گی۔اقتصادی پہلو کے متعلق حضور نے ارشاد فرمایا کہ اسلام نے حکومت کا فرض قرار دیا ہے کہ وہ لوگوں کے لئے روٹی پانی کپڑا اور رہائش کا انتظام کرے۔(۳) اس موضوع کی اہمیت کے پیشِ نظر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے مارچ ۱۹۴۸ء میں کراچی میں ایک لیکچر میں دوبارہ اس موضوع کے بعض پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔حضور نے مختلف اسلامی احکامات کا ذکر کر کے فرمایا کہ اگر مسلمان ان احکامات کا جو بھی مفہوم سمجھتے ہیں اس پر عمل کرتے ہیں۔اگر وہ ان احکام پر اپنی اپنی جگہ پر عمل کرتے ہیں تو پھر تو بے شک وہ اسلامی حکومت کے مطالبے میں سنجیدہ سمجھے جا سکتے ہیں لیکن اگر وہ ان احکامات پر عمل نہیں کرتے تو وہ اسلامی حکومت کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔اگر آپ لوگ یہاں سے اٹھنے سے پہلے یہ فیصلہ کر لیں کہ اسلام کے جن احکامات پر عمل کرنا آپ کے اپنے بس میں ہے اور جن پر عمل کرنے کے لئے کسی حکومت کسی قانون اور کسی طاقت کی ضرورت نہیں ، ان پر عمل کرنا شروع کر دیں گے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ شام سے پہلے پہلے اسلامی حکومت قائم ہو جائے گی۔(۶) جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں وہ جماعتیں جنہیں عرف عام میں مذہبی جماعتیں کہا جاتا ہے، ان کا اصرار تھا کہ پاکستان کا آئین ایک اسلامی آئین ہونا چاہئیے۔اور اسلامی آئین سے مراد یہ تھی کہ جو اسلامی احکامات کی تشریح وہ کرتے ہیں، اس آئین کی تشکیل کی بنیاد ان تشریحات پر رکھی جائے۔اور جیسا کہ بعد میں ذکر آئے گا اسلامی آئین کے مطالبے سے اصل غرض یہ تھی کہ ہمارے ہاتھوں میں عنانِ اقتدار آ جائے۔پہلے یہ ذکر آچکا ہے کہ جس وقت پاکستان کے حصول کے لئے تحریک چل رہی تھی ، اُس وقت علماء کی اکثریت تو مطالبہ پاکستان اور مسلم لیگ اور بانی پاکستان کی مخالفت کر رہی تھی۔جو چند علماء مسلم لیگ کا ساتھ دے رہے تھے ان کے ارادے بھی اس مثال سے واضح ہو جاتے ہیں۔۱۹۴۵ء میں قصور میں مسلم لیگ کا ایک جلسہ ہوا۔ایک مولوی بشیر احمد نگر صاحب نے بھی اس میں تقریر کی۔تقریر کے دوران انہوں نے اعلان کیا دو جب تک انگریز اور ہندو کی سیاست اس ملک میں موجود ہے اس کے مقابلہ کے