سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 260 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 260

260 کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ لگانے کی مشروط اجازت دی جائے۔ان فرموں کو چالیس فیصد حصے دیئے جائیں اور چالیس فیصدی حکومت پاکستان دے۔باقی ہیں فیصدی حصوں کے مالک پاکستان کے عوام ہوں۔اس سلسلے میں فرموں سے یہ شرط بھی کی جائے۔کہ وہ ہمارے حصے داروں کو ساتھ کے ساتھ ٹریننگ دیں گے، یہ لیکچر فیروز خان نون صاحب کی صدارت میں ہوا۔جو بعد میں ملک کے وزیر اعظم بھی بنے۔زمیندار جیسے مخالف اخبار نے اس لیکچر کی خبر اس سرخی کے ساتھ شائع کی امریکہ سے قرضہ لینا پاکستان کی آزادی کو خطرے میں ڈالنا ہے۔اور اپنی رپورٹ میں اس لیکچر کو پاکستان کی زراعت ، اقتصادیات اور معاشیات پر ایک فصیح و بلیغ لیکچر قرار دیا۔اگلے لیکچر میں حضور نے فرمایا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ قرضے کی وہ شکل نہیں ہوگی جو اخبارات میں شائع ہوئی ہے۔تاہم میرے نزدیک اس تجویز پرعمل کرنے سے قبل متعدد اہم امور پر غور کرنا ضروری ہے۔اور ان امور کی وضاحت کرتے ہوئے اس امر پر بھی زور دیا کہ اس تجویز کے متعلق ملک کی اسمبلی کی منظوری حاصل کر لینی چاہئیے۔(۲-۳) واضح رہے کہ یہ انتباہ اس وقت کیا گیا تھا جب کہ ابھی پاکستان نے امریکہ یا کسی اور جگہ سے ایک قرضہ بھی حاصل نہیں کیا تھا۔اس لیکچر کے کچھ دن کے بعد ۷ دسمبر کو امریکہ نے پاکستان کو قرضہ دینے سے حتمی انکار کر دیا۔لیکن افسوس حکومت پاکستان کی ترجیحات میں قرضوں کا حصول بدستور شامل رہا۔اور بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ جب قرضے ملنے لگے تو بغیر کسی منصوبہ بندی کے ملک پر اتنے قرضوں کا بوجھ ڈال دیا گیا کہ وہ تمام خدشات درست ثابت ہوئے جن کا اظہار حضور نے اپنے لیکچر میں فرمایا تھا۔اور اس وقت کوئی آواز قرضہ لینے کے خلاف نہیں اٹھ رہی تھی۔قرضوں کا بوجھ تیزی کے ساتھ بڑھتا گیا۔۱۹۸۰ء میں بیرونی قرضوں کا بوجھ دس ارب ڈالر تھا۔۱۹۹۰ء تک یہ بوجھ بڑھ کر ہیں ارب ڈالر ہو چکا تھا۔اور مئی ۱۹۹۸ ء تک پاکستان ۴۲ ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کے بوجھ کے نیچے دبا ہوا تھا۔ملک کی برآمدات سے کمائے گئے زرمبادلہ کا دو تہائی تو محض قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگی کی نذر ہوتا رہا ہے (۴)۔بجٹ کا سب سے بڑا حصہ قرضوں اور ان کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہو جاتا ہے۔۰۵ ۲۰۰۴ کے مالی سال میں ۲۶۵۳۳۰ ملین روپے debt servicing پر خرچ ہوئے جبکہ ترقیاتی اخراجات پر اس سے تقریباً نصف رقم خرچ