سلسلہ احمدیہ — Page 257
257 تک ربوہ میں بجلی بھی نہیں تھی۔لیکن با وجود اس عمر کے آپ حضور کے ہمراہ ربوہ تشریف لے آئیں۔اور باقی احباب کی طرح چند کمروں کے کچے گھر میں قیام فرمایا۔کمزوری بڑھ رہی تھی لیکن ابھی بھی آپ فجر کے بعد سیر کے لئے تشریف لے جاتیں اور آکر ناشتہ کر کے لیٹ جاتیں۔جن دنوں حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحب ربوہ تشریف لاتے وہ آپ کو جیپ پر ربوہ سے قریب احمد نگر لے جاتے اور آپ وہاں پر چہل قدمی فرماتیں۔اکثر شام کو آپ گھر کے لڑکوں سے قرآن شریف یا حدیث نبوی یہ سنتیں۔(۳۲) حضرت مصلح موعودؓ ۲۶ فروری ۱۹۵۲ء کو سندھ تشریف لے جا رہے تھے۔ایک روز قبل آپ حضرت اماں جان سے ملنے کے لئے تشریف لائے تو آپ کو احساس ہوا کہ حضرت اماں جان کو بخار ہے۔آپ نے صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا منور احمد صاحب کو کہلا بھجوایا کہ آکر حضرت اماں جان کو دیکھ جائیں۔معائنے پر معلوم ہوا کہ آپ کو بخار ہے۔علاج شروع کیا گیا۔مگر وقفے سے بخار ہوتا رہا۔گردوں میں انفکشن کی تشخیص کی گئی۔لاہور سے کچھ اور ڈاکٹروں کو بھی بلا کر دکھایا گیا مگر بیماری بڑھتی گئی اور کمزوری میں بھی بہت اضافہ ہو گیا۔آپ کی علالت کے پیش نظر ۲۶ مارچ کو حضور سندھ میں اپنا قیام مختصر کر کے واپس ربوہ پہنچے۔حضور کی طرف سے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کو ہدایت تھی کہ راستے کے سٹیشنوں پر فون کر کے حضرت اماں جان کی طبیعت کے متعلق اطلاع دیتے رہیں۔ہر اسٹیشن پر حضور پیغام کے متعلق دریافت فرماتے۔اور راستے میں بیقراری سے ٹہل کر قرآن شریف کی تلاوت فرماتے رہے۔اسٹیشن پر حضور نے کسی سے ملاقات نہیں فرمائی اور تیزی سے چلتے ہوئے حضرت اماں جان کے گھر پہنچے اور آپ کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر دعا ئیں شروع کر دیں۔(۴) علاج جاری تھا مگر بیماری کی شدت میں مسلسل اضافہ ہو رہا تھا۔دل میں کمزوری کی علامات ظاہر ہورہی تھیں اور گردے کام کرنا چھوڑ رہے تھے۔آخر میں بار بار غنودگی رہنے لگ گئی۔لیکن شدید بیماری کے ایام میں بھی آپ نے کئی مرتبہ خود کہہ کر قرآن مجید کی تلاوت سنی۔جب کسی نے طبیعت پوچھی تو جواب میں یہی کہا کہ اچھی ہوں۔۲۰ اپریل ۱۹۵۲ء کی رات کو آپ کی طبیعت یکدم بہت خراب ہوگئی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی اپنی عظیم والدہ کے سرہانے بیٹھے دعائیں فرمارہے تھے۔اسی دوران حضرت اماں جان نے آنکھیں کھول کر آپ کو دیکھا اور دونوں ہاتھ اٹھا کر اشارے سے دعا