سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 252 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 252

252 غلام فرید صاحب کے ذریعہ قائم ہوا تھا مگر مئی ۱۹۲۴ء میں اسے بند کرنا پڑا تھا۔دوسری جنگِ عظیم کے معاً بعد جرمنی جنگ کی تباہ کاریوں سے سنبھل رہا تھا۔جنوری ۱۹۴۹ء میں جماعت کے مبلغ مکرم چوہدری عبدالطیف صاحب مشن قائم کرنے کے لیے جرمنی میں پہنچے اور ہمبرگ میں جماعت کا مشن قائم کیا۔چند جرمن باشندوں نے سویٹزرلینڈ میں احمدیت کو قبول کیا تھا۔ان میں سے ایک نومسلم عبدالکریم ڈنکر صاحب نے اخلاص و وفا کے ساتھ تبلیغی کوششوں میں چوہدری عبدالطیف صاحب کا ہاتھ بٹانا شروع کیا۔پہلے سال میں چند آدمیوں کی ایک مختصر جماعت قائم ہوئی۔چوہدری صاحب کا قیام ایک نو احمدی کے گھر میں تھا ، اس شخص نے جماعت سے علیحدگی اختیار کر کے ملک میں آپ کا رہنا دو بھر کر دیا۔اس کے بعد آپ کو رہائش کی شدید مشکلات سے دو چار ہونا پڑا۔۱۹۵۲ء تک صرف ہمبرگ میں جماعت تھی ،۱۹۵۲ء میں نیورمبرگ میں بھی تین نفوس پر مشتمل جماعت بنی۔اور ایک نو مسلم عمر ہوفر (Hoffer) صاحب وہاں پر آنریری مبلغ مقرر ہوئے۔سکاٹ لینڈ : یہ برطانیہ عظمیٰ کا سب سے شمالی حصہ ہے۔نسلی طور پر اس کے لوگوں میں سیلٹک سکاٹ (Celtic Scots) اور اینگلو سیکسن (Anglo Saxon) کے خون کی آمیزش ہے۔یہاں کی اکثریت عیسائی ہے اور سکاٹ لینڈ کا سب سے بڑا چرچ، چرچ آف سکاٹ لینڈ ہے۔اس کے علاوہ رومن کیتھولک چرچ اور Scottish Episcopal Church کا بھی اثر و رسوخ ہے۔دوسری جنگِ عظیم کے دوران، جن دنوں میں لندن پر شدید بمباری ہو رہی تھی ، دو سکائش باشندوں مس وائٹ لو (Whitelow) اور مسٹر فیر شا (Fareshaw) نے لندن میں بیعت کی تھی۔سکاٹ لینڈ میں با قاعدہ مشن کے قیام کی سعادت انگریز احمدی مبلغ مکرم بشیر احمد آرچرڈ صاحب کو حاصل ہوئی۔آپ نے ۱۹۴۹ء میں سکاٹ لینڈ کے سب سے بڑے شہر گلاسکو میں جماعت کا مشن قائم کیا۔ابتدائی دنوں میں وہاں پر مقیم کچھ پاکستانی احمدیوں اور چند افریقی طالب علموں کو تبلیغ کی گئی اور یو نیٹر بین چرچ میں آنحضرت ﷺ کی تعلیمات پر لیکچر دینے کا موقع ملا۔(۱) شروع کے مہینوں میں آرچرڈ صاحب کی تبلیغی سرگرمیاں گلاسکو تک محدود تھیں یہاں پر تبلیغی