سلسلہ احمدیہ — Page 238
238 خدمت کی کہ غیر بھی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو گئے۔پاکستان بننے کے بعد قائد اعظم نے وزارت خارجہ کا قلمدان حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے سپر د کر دیا اور جلد ہی کشمیر، فلسطین اور عالم اسلام کے دیگر مسائل پر حضرت چوہدری صاحب نے ایسی نمایاں خدمات سرانجام دیں کہ سارے عالم اسلام نے ان کا اعتراف کیا۔اس پس منظر میں علماء کی جماعتوں کو اپنی سیاسی موت نظر آرہی تھی۔اس سیاسی موت سے بچنے کے لئے ان جماعتوں کو یہی راستہ نظر آیا کہ فرقہ واریت کو ہوا دے کر اپنا سیاسی الوسیدھا کیا جائے۔اور یوں پاکستان میں احمدیت کی مخالفت کا آغاز ہوا۔ہم ۱۹۵۳ء کے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے ان عوامل کا تفصیلی جائزہ لیں گے۔ربوہ کی زمین خریدنے کے ساتھ ہی اس مخالفت میں ایک نیا جوش پیدا ہوا۔اور یہ واویلا شروع کیا گیا کہ اتنی قیمتی زمین احمدیوں کو برائے نام قیمت پر دی جارہی ہے اور پاکستان کا نقصان ہو رہا ہے۔ان الزامات کے جواب میں اگست ۱۹۴۸ء کے آغاز میں ناظر صاحب امور خارجہ نے اس زمین کی فرضی قیمت کے متعلق اخباری دعووں کا حوالہ دے کر الفضل میں مندرجہ ذیل اعلان شائع کروایا۔اس اراضی کو پندرہ سورو پید فی ایکڑ کے حساب سے خریدنے کے لئے تیار تھے۔سو اگر یہ درست ہے تو واقعی حکومت کو سخت نقصان پہنچا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی امام جماعت احمد یہ گورنمنٹ کے اس نقصان کو قطعاً برداشت نہیں کر سکتے۔اس لئے حضور نے مجھے ہدایت فرمائی کہ میں یہ پریس جاری کروں کہ ہم یہ رقبہ جو ۱۰۳۴ ایکڑ ہے مندرجہ بالا پیش کردہ قیمت پر فروخت کرنے کو تیار ہیں۔اور علاوہ ازیں ہم یہ وعدہ کرتے ہیں کہ اس رقم کا( جو پندرہ لاکھ اور اکاون ہزار بنتی ہے ) وصول ہوتے ہی ایک ایک روپیہ فوراً حکومتِ پاکستان کے خزانے میں داخل کرا دیں گے۔اخیر میں ہم پاکستان کے شہریوں کو یقین دلاتے ہیں کہ اس معاملہ کے متعلق اخبار ”آزاد“ کا لفظ لفظ کذب بیانی پر مشتمل ہے (۱۲) چونکہ یہ پراپیگنڈ اوسیع پیمانے پر کیا جا رہا تھا اس لئے حکومت کو بھی اس کا جواب دینا پڑا اگست ۱۹۴۸ء میں حکومت کی طرف سے یہ اعلان شائع کیا گیا۔۔۔الزام یہ ہے کہ تقسیم کے بعد بعض مسلم انجمنیں اس زمین کو پندرہ سو روپیہ فی ایکڑ