سلسلہ احمدیہ — Page 237
237 کانگرس کے ساتھ تھیں۔اور مولویوں کا یہ گروہ مسلم لیگ کی مخالفت میں پیش پیش تھا۔جیسا کہ احراری لیڈر عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب نے ۱۹۳۹ء میں ، سندھ پراونشل احرار کا نفرنس کے موقع پر واضح الفاظ میں کہا تھا د مسلم لیگیوں میں خود داری کا ذرا مادہ نہیں ہے۔وہ برطانوی گورنمنٹ کے اشارے پر ناچتے ہیں اور ہندوستان کو ہمیشہ غلام رکھنا چاہتے ہیں۔یہ امر افسوسناک ہے کہ مسلم لیگی مہاتما گاندھی کے ممنون ہونے کی بجائے اپنی ذاتی اغراض کیلئے کانگرس سے جھگڑ رہے ہیں۔اس کے بعد انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ کانگرس میں شامل ہوں۔(۱۰) جمیعۃ العلماء اور احرار واضح طور پر اس موقف کا اظہار کرتے رہے تھے کہ مسلم لیگ ایک رجعت پسند جماعت ہے جو ملک و ملت کی ترقی کی راہ میں بھاری رکاوٹ ہے۔اور ان کے یہ بیانات ہندو اخبارات بڑے فخریہ انداز میں شائع کرتے تھے۔(۱۱) دوسری طرف جماعت احمدیہ نے انتخابات میں مسلم لیگ کا ساتھ دیا تھا۔انتخابات میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت نے مسلم لیگ کے حق میں فیصلہ دے دیا اور مولویوں کے اس گروہ کو بھاری ندامت اٹھانی پڑی۔آزادی کے معاً بعد فسادات کے نتیجے میں بھی عوام الناس میں پاکستان کی مخالفت کرنے والے گروہوں کے خلاف جذبات اور بھی انگیخت ہو گئے اور ان فسادات میں علماء کے گروہ نہ تو مسلمانوں کی کوئی خدمت کر سکے اور نہ ہی ان خطرناک حالات میں ان کے دفاع کے لئے کسی جراءت کا مظاہرہ کرنا انہیں نصیب ہوا۔جماعت اسلامی کا مرکز بھی مشرقی پنجاب میں پٹھانکوٹ کے مقام میں تھا۔پہلے تو ان کے سربراہ پاکستان کو نا پاکستان قرار دیتے رہے اور جب قائد اعظم کا پیغام لے کر سردار شوکت حیات پہنچے تو مودودی صاحب نے پاکستان کی جد وجہد میں عملی حصہ لینا تو درکنار ، اس کے لئے دعا کرنے سے بھی انکار کر دیا۔پھر جب فسادات شروع ہوئے تو جماعت اسلامی نے مشرقی پنجاب کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لئے کچھ بھی نہ کیا اور صرف اپنی جانیں بچانے کی فکر کی۔مودودی صاحب بالآخر اسی پاکستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے جسے کل تک وہ نا پاکستان کہہ رہے تھے۔دوسری طرف جماعت احمدیہ نے فسادات میں مسلمانوں کی ایسی نمایاں