سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 236 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 236

236 نے اس اراضی کی فروخت کی کاروائی مکمل کی۔اس مقصد کے لئے مکرم نواب محمد دین باجوہ صاحب نے انتھک محنت کی۔ان کی وفات کے چند روز کے بعد حضور نے ان کی کاوشوں کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا 'جماعت ہمیشہ ان کی قربانیوں کو یاد رکھے اور اس بات کو مت بھولے کہ کس طرح ایک اسی سالہ بوڑھے نے جو محنت اور جفاکشی کا عادی نہیں تھا۔۔۔۔۴۷ سے ۴۹ تک باوجود اس کے کہ اس کی طبیعت اتنی مضمحل ہو چکی تھی کہ وہ طاقت کا کوئی کام نہیں کر سکتا تھا۔اپنی صحت اور آرام کو نظر انداز کرتے ہوئے رات اور دن ایک کر دیا اس لئے کہ کسی طرح جماعت کا نیا مرکز قائم کر دیا جائے۔سینکڑوں دفعہ افسروں سے ملے ،ان سے جھگڑے کئے لڑائیاں کیں منتیں اور خوشامدیں کیں اور پھر مرکز کی تلاش کے لئے بھی پھرتے رہے۔(۹) بالآخراا جون ۱۹۴۸ء کو حکومت نے اس زمین کی فروخت کی منظوری دے دی۔منظوری دینے سے قبل حکومت نے اس اراضی کی فروخت کے متعلق اخبار میں اشتہار بھی دیا۔لیکن اس کا کوئی اور خریدار سامنے نہ آیا۔یہ زمین اتنی بنجر تھی کہ کوئی اسے برائے نام قیمت پر لے کر بھی آباد کرنے کو تیار نہیں تھا۔چند دن میں ہی جماعت نے ۱۰۳۴ ایکٹر کی مطلوبہ قیمت اور اخراجات رجسٹری بارہ ہزار روپے جمع کرا کے زمین کی رجسٹری کی کاروائی مکمل کرالی۔مخالفین کا شور : قبضہ لینے کی کاروائی ہو رہی تھی کہ احراریوں اور جماعت کے دیگر مخالفین نے شور مچا دیا کہ احمدیوں کو یہ زمین کوڑیوں کے مول دے دی گئی ہے۔احراریوں کے اخبار آزاد نے اور زمیندار نے اپنی یکم اگست ۱۹۴۸ء کی اشاعت میں دعویٰ کیا کہ اس اراضی کو تو بعض لوگ پندرہ سو روپے ایکٹر پر لینے کو تیار تھے۔اور بعض دیگر اخبارات اور حلقے بھی اس مخالفت میں شامل ہو گئے۔جہاں تک احرار یا جماعت کے مخالف علماء کا تعلق ہے تو اب انہیں اپنی سیاسی موت نظر آرہی تھی۔کیونکہ تقسیم سے قبل ان میں سے اکثر مسلمانوں کا حقیقی نمائیندہ ہونے کا دعوی کر رہے تھے اور ان کی سیاسی ہمدردیاں