سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 226 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 226

226 جماعت سے ان کی قیمت وصول کر لی جائے۔جماعت کے وفد کے ایک رکن نے وزیر اعظم صاحب سے عرض کی کہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ یہ چند لوگ آپ سے ملنے آئے ہیں۔ساری دنیا کے احمدیوں کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آپ کی حکومت اس ضمن میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔وزیر اعظم صاحب نے بھی جواب میں اس بات کا اظہار کیا کہ وہ اس بات کو سمجھتے ہیں۔چنانچہ کچھ اونچ نیچ بعد ان عمارات کی اُس وقت کی قیمت طے کی گئی اور صدر انجمن احمدیہ نے قسطیں ادا کر کے ان کے مالکانہ حقوق حاصل کر لئے۔اسی طرح حکومتی اداروں نے صدر انجمن احمدیہ کی جائیداد کو بھی متروکہ جائیداد قرار دے دیا تھا۔حالانکہ صدر انجمن احمد یہ بدستور قادیان میں قائم تھی اور اس نے ایک روز کے لئے بھی کام بند نہیں کیا تھا۔چنانچہ صدر انجمن احمدیہ نے ایک طویل جد و جہد کا آغاز کیا کہ یہ جائیداد مترو کہ جائیداد نہیں ہے اور ان کی مالک تنظیم قادیان میں کام کر رہی ہے۔کئی سال کی کاوشوں کے بعد حکومت نے یہ موقف تسلیم کر لیا کہ صدر انجمن احمد یہ تارکین وطن میں شامل نہیں ہے اور وہ اپنی جائیداد پر قبضہ کا حق رکھتی ہے۔(۴۸) قادیان کے گھر آباد ہوتے ہیں: ملک کے بعد شروع کے تین سال قادیان میں صرف مرد آباد تھے۔سارے ماحول میں بچے کے رونے کی آواز تک سنائی نہیں دیتی تھی۔درویشان قادیان میں سے جو شادی شدہ تھے ان کے اہل وعیال پاکستان تھے۔جو غیر شادی شدہ تھے اُن کی شادی کا سوال پیدا ہونا تو ایک طرف رہا شروع شروع میں ان کے لئے بازار جانا بھی ایک ایسا مرحلہ تھا جس کے لئے حفاظتی نقطہ نگاہ سے یہ طریقہ کار مقرر تھا کہ چار پانچ درویش مل کر بازار جاتے تھے اور جانے سے پہلے ایک دفتر میں اپنے ناموں کا اندراج کراتے تا کہ اگر کوئی ناخوشگوار واقعہ ہو جائے تو باقیوں کو ڈھونڈنے میں آسانی رہے۔جب ماحول بہتر ہونے لگا تو یہی مناسب معلوم ہوتا تھا کہ کچھ گھرانے بھی قادیان آباد ہوں تا کہ زندگی کسی قدر معمول پر آئے۔چنانچہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تحریک فرمائی کہ بھارت کے کچھ گھرانے قادیان میں آباد ہوں۔۱۹۵۰ء کے نصف آخر میں امروہہ،شاہجہانپور اور ضلع بریلی سے کچھ گھرانے ہجرت کر کے قادیان میں آباد ہوئے۔اور ان کی گہما گہمی محلہ احمدیہ کے کو چوں