سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 225 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 225

225 طرف اپنا سفر شروع کریں۔۱۹۴۷ء کا ابتلاء ایسا ہی ایک مرحلہ تھا۔اور یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ جماعت اس شان سے امتحان میں کامیاب ہوئی کہ اپنے تو اپنے غیر بھی اس کا اعتراف کئے بغیر نہ رہ سکے۔اور بعد کی تاریخ گواہ ہے کہ اس ابتلاء کے بعد کسی بھی لحاظ سے جماعت کا قدم پیچھے نہیں ہٹا ، جماعت کے حوصلے پست نہیں ہوئے بلکہ ترقی کا سفر پہلے سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے جاری رہا۔مقدس مقامات کی حفاظت کے لئے قانونی کوششیں: فسادات کے باعث اور مناسب نگہداشت نہ ہونے کے باعث قادیان کی بہت سی مساجد کو مرمت کی ضرورت تھی۔درویشان قادیان نے خود محنت کر کے اور وقار عمل کر کے ان مساجد کو صاف کیا اور ان کی مرمت کر کے ان کو اپنی اصلی حالت میں بحال کیا۔غیر مسلموں کا ایک شریر گروہ ان مساجد پر قبضہ کر کے ان مقدس مقامات کی توہین کر رہا تھا۔درویشان قادیان حکومتی افسران سے مل کر اس ضمن میں مسلسل قانونی کوششیں کر رہے تھے۔مئی ۱۹۴۸ء میں ڈپٹی کمشنر گورداسپور نے یہ حکم جاری کیا کہ قادیان کی مساجد شر نارتھیوں سے خالی کرائی جائیں اور آئندہ بھی ان میں کسی کو آباد نہ کیا جائے۔مقدس عمارات کے حوالے سے اور صدر انجمن احمد یہ کی مملوکہ عمارات کے حوالے سے بہت سی مشکلات کا سامنا تھا۔دار اسیح جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی مبارک زندگی کے ایام گزارے، جہاں پر بیت الدعا اور بیت الفکر کے مقدس مقامات موجود تھے ،اسے بعض حکومتی اداروں نے متروکہ جائیداد قرار دے دیا تھا۔اس کا نتیجہ یہ ہوسکتا تھا کہ یہ مقدس مقامات نقل مکانی کرنے والے کسی ہندو یا سکھ کو الاٹ کر دئیے جاتے۔حالانکہ ان کی حیثیت ایک عام مقام کی نہیں تھی بلکہ ایک ایسے مقدس مقام کی تھی جن سے لاکھوں احمدی والہانہ عقیدت رکھتے تھے۔چنانچہ جماعتِ احمد یہ بھارت کا ایک وفد جس میں مکرم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب بھی شامل تھے وزیر اعظم بھارت پنڈت جواہر لال نہر وصاحب سے ملا اور ساری حقیقت ان کے سامنے پیش کی۔انہوں نے اظہار ہمدردی کیا اور کہا کہ وہ اس بات کو سمجھتے ہیں لیکن انہیں بھی پارلیمنٹ کے سامنے جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔اس لئے یہ انتظام کیا جا سکتا ہے کہ ان مقامات کی نیلامی نہ کی جائے ورنہ یہ خدشہ ہو سکتا تھا کہ کوئی از راہ شرارت زیادہ بولی لگائے جو جماعت کیلئے ادا کرناممکن نہ ہو۔بلکہ حساب فہمی کر کے