سلسلہ احمدیہ — Page 213
213 ڈھارس ہوئی۔شروع میں حکومت نے یہ خبر چھپانے کی کوشش کی۔لیکن اس نے تو بہر حال ظاہر ہونا تھا۔اس سے حکومتِ ہندوستان کی بہت بدنامی ہوئی کیونکہ قادیان میں حکومتی اداروں نے مرکزی حکومت کے دعووں کے بالکل برعکس رویہ دکھایا تھا۔حکومتِ پاکستان کی طرف سے وفاقی وزیر غضنفر علی خان صاحب نے قادیان پر اس وحشیانہ حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں پر ہونے والے حملوں میں سے یہ حملہ سب سے زیادہ بزدلانہ تھا۔قانون نافذ کرنے والے ادارے اس سازش میں شریک تھے۔مشرقی پنجاب کی حکومت کا فرض ہے کہ اس سانحے کی وضاحت پیش کرے (۳۲)۔۷ اکتوبر کو ڈپٹی کمشنر اور ایس پی قادیان کا جائزہ لینے آئے۔امیر مقامی حضرت مرزا عزیز احمد صاحب نے سارے حالات انہیں سنائے اور کھول کر بیان کیا کہ تمہارے لوگوں کی طرف سے یہاں پر یہ ظلم کیا گیا ہے۔انہوں نے بظاہر انکار کیا کہ یہ ان کے حکم پر ہوا ہے لیکن ساتھ احمدیوں کو ہراساں کرنے کے لئے یہ بھی کہا کہ اگر پاکستان اور ہندوستان میں جنگ چھڑی تو آپ لوگوں کو دشمن تصور کیا جائے گا اور ختم کر دیا جائے گا۔اس سے یہی معلوم ہوتا تھا کہ وہ یہاں سے ہر قیمت پر احمدیوں کو نکالنا چاہتے ہیں۔اگلے روز بھارتی فوج کے جی اوسی میجر جنرل تھمایا بھی قادیان کا جائزہ لینے آئے ( جنرل تھمایا بعد میں ہندوستانی فوج کے کمانڈر انچیف بنے تھے )۔ان کے ساتھ پاکستانی فوج کے احمدی افسران برگیڈیئر افتخار جنجوعہ، برگیڈیئر نذیر صاحب اور حضرت مولانا عبد الرحیم در دصاحب بھی تھے۔جنرل تھمایا نے حالات کا جائزہ لیا اور اسوقت اعتراف کیا کہ قادیان پر ایک بڑا حملہ کرایا گیا ہے اور مظالم کئے گئے ہیں۔اور یہ کہ کرفیو لگانا قطعاً غلط تھا۔یہ وعدہ بھی کیا کہ وہ واپس جا کر مسلمان ملٹری قادیان بھجوائیں گے۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ آپ لوگوں کی حفاظت کرنا مشکل ہو گا۔حالانکہ یہ حفاظت مہیا کرنا ان کا فرض تھا اس بات کا مقصد صرف احمدیوں کو ہراساں کر کے قادیان چھوڑنے پر آمادہ کرنا تھا۔لیکن دو روز بعد ہندوستان ریڈیو نے یہ خبر نشر کی کہ قادیان پر حملے کی اطلاع ملتے ہی جنرل تھمایا نے پاکستانی افسران اور جماعت احمدیہ کے نمائندے کے ہمراہ قادیان کا دورہ کیا اور ان تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ قادیان پر سرے سے کوئی حملہ ہوا ہی نہیں۔ایسی صورت میں جب یہ خبر اچھی طرح مشتہر ہو چکی تھی یہ سفید جھوٹ حقائق کو چھپانے کی ایک بھونڈی کوشش تھی۔جماعت کی طرف سے فوراً حقائق پر مشتمل بیان جاری کیا گیا اور ناظر امورِ