سلسلہ احمدیہ — Page 214
214 خارجہ حضرت مولانا عبدالرحیم در دصاحب نے ، جو اس دورے پر جنرل تھمایا کے ہمراہ تھے، اس خبر کی تردید میں ایک تفصیلی پریس سٹیٹمنٹ جاری کی۔اس طرح یہ خبر حکومت کے لئے خفت کا باعث بنی۔ابھی یہ معاملہ ختم نہیں ہوا تھا کہ وزیر اعظم ہندوستان پنڈت جواہر لال نہرو نے ایک بیان جاری کیا کہ قادیان میں احمدیوں کو نہ تو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی ہراساں کیا گیا ہے اور ہندوستان کی ملٹری ان کی حفاظت کر رہی ہے۔اس پر ایک بار پھر جماعت نے حقائق پر مشتمل تردیدی بیان جاری کیا اور وزیر اعظم کو تار بھی بھجوائی اور اس میں حقائق پیش کرنے کے علاوہ لکھا کہ یہ ویسی ہی پرانی کہانی دہرائی جا رہی ہے جیسا کہ برٹش دور میں حکومت کانگرس کے لیڈروں کو ہراساں کرتی تھی اور پھر اس کی تردید بھی کر دیتی تھی۔اور کانگرس اس پرا پیگینڈا کے سامنے بے بس ہوتی تھی۔تشدد کے خوف سے نقل مکانی کو روکنے کے لئے دونوں ممالک کی طرف سے بیانات تو دیئے جا رہے تھے لیکن صورت حال بد سے بدتر ہوتی جا رہی تھی۔۷ اکتوبر کو پاکستان میں بسنے والے ہندؤں اور سکھوں کے نام قائد اعظم کا ایک پیغام گورنرسندھ نے پر لیس کو پہنچایا۔اس پیغام میں کہا گیا تھا کہ سندھ میں بسنے والے ہندو اور سکھوں کو چاہیے کہ وہ پاکستان میں ہی شہر میں۔اور انہیں یاد دلایا کہ گاندھی جی نے بھی اس خواہش کا اظہار کیا ہے کہ لوگ اپنی اپنی جگہ جگہ پر ٹہرے رہیں۔اور نقلِ مکانی نہ کریں۔(۳۳) لیکن عملاً صورتِ حال یہ تھی کہ اکتوبر ۱۹۴۷ء کے تیسرے ہفتے میں یہ اعلان کیا گیا کہ صرف امرتسر سے موصول شدہ اطلاعات کے مطابق گذشتہ ایک ہفتہ میں ہی ساڑھے سولہ لاکھ سے زائد افراد نے نقل مکانی کی ہے۔ان میں سے دس لاکھ مسلمان تھے اور ساڑھے چھ لاکھ سے کچھ اوپر غیر مسلم تھے۔چار لاکھ پنتیس ہزار غیر مسلموں اور چار لاکھ اکیانوے ہزار مسلمانوں کو تو صرف اس ہفتہ کے دوران پیدل چل کر نقل مکانی کرنی پڑی تھی۔(۳۴) ۱۱۴ کتوبر کو حضور کے حکم پر حضرت مرزا عزیز احمد صاحب لاہور کے لئے روانہ ہوئے اور مولانا جلال الدین صاحب شمس امیر مقامی مقرر ہوئے۔قادیان پر ہونے والے مظالم کو چھپانا ممکن نہیں رہا تھا۔حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب اقوام متحدہ میں موجود تھے اس داستان کی بازگشت وہاں بھی سنائی دی۔برطانیہ کے بہت سے اخبارات نے قادیان پر ہونے والے مظالم شائع کئے۔تنزانیہ کی جماعت کی طرف سے بھی