سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 197 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 197

197 قادیان خطرات کے گھیرے میں جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے حضور نے ۳۱ اگست کو قادیان سے ہجرت فرمائی۔اس وقت حالات کے پیش نظر اس امر کو ظاہر نہیں کیا گیا تھا۔اگلے روز دو پہر کو حضور کا خط احباب کو سنایا گیا اور احباب نے حضور کے بخیر و عافیت لاہور پہنچنے پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا۔طے شدہ پروگرام کے مطابق یکم ستمبر کو مسلمان ملٹری ضلع گورداسپور سے پاکستان جانی شروع ہوئی۔اب یہاں پر تقریباً مکمل طور پر ہندو اور سکھ ملٹری اور پولیس مقرر ہو چکی تھی۔اس کے ساتھ علاقے میں سکھوں کی نقل و حرکت میں اضافہ ہو گیا۔۲ ستمبر کو قادیان کے شمال میں ایک گاؤں سٹھیالی پر حملے کا آغاز ہوا۔اس گاؤں میں احمدی اور دوسرے مسلمان رہتے تھے اور اس وقت ارد گرد کے دیہات کے مسلمان بھی وہاں پر جمع تھے۔سٹھیالی کے باشندوں نے مقابلہ شروع کیا۔سکھ جتھوں نے دو دفعہ حملہ کیا مگر منہ کی کھانی پڑی۔یہ دیکھ کر وہاں پر متعین فوج اور پولیس نے اس گاؤں کے مسلمان زمینداروں کو پکڑ کر زدوکوب کرنا شروع کیا۔حکومتی اداروں کے یہ تیور دیکھ کر سٹھیالی والوں کو اپنا گاؤں خالی کرنا پڑا اور وہ قادیان منتقل ہو گئے۔پھر قادیان کے نواح میں ایک گاؤں عالمے کو نذر آتش کر دیا گیا۔(۱) ستمبر کے پہلے ہفتے میں قادیان کے ارد گرد دیہات میں آٹھ احمدی شہید اور کچھ گرفتار ہوئے۔(۲) اس وقت مسلمان لاکھوں کی تعداد میں ہجرت کر کے مغربی پنجاب جا رہے تھے یا کیمپوں میں منتقل ہو رہے تھے۔اسی طرح مغربی پنجاب سے ہندؤں اور سکھوں کی ایک بڑی تعداد مغربی پنجاب چھوڑ کر ہندوستان جا رہی تھی۔تاریخ میں اتنے کم وقت میں اتنی بڑی نقل مکانی کبھی نہیں ہوئی تھی۔ہر طرف افراتفری کا دور دورہ تھا۔اکثر مقامات پر بلوائیوں کا مقابلہ کرنے کی کوئی کوشش ہی نہیں کی جارہی تھی۔اس کے نتیجے میں ہر طرح کے المیے جنم لے رہے تھے۔لوگوں کے اموال لوٹے جارہے تھے۔عورتیں اغوا ہو رہی تھیں۔جائدادوں پر زبر دتی قبضہ کیا جا رہا تھا۔ہر طرف قتل و غارت کا بازار گرم تھا۔اس پس منظر میں سے ستمبر کو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے مشرقی پنجاب کی جماعتوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنی جگہوں کو نہ چھوڑیں۔عورتوں اور بچوں کو حفاظت کی غرض سے مغربی پنجاب