سلسلہ احمدیہ — Page 194
194 تھا اور طالبات کو بیٹھنے کے لیے فقط ایک ایک اینٹ ہی میسر تھی۔اس نا گفتہ بہ حالت کی وجہ سے داخل ہونے والی طالبات کی تعداد بہت کم تھی۔اس لئے جنوری ۱۹۴۸ء میں حضور کی منظوری سے فیصلہ کیا گیا کہ لڑکیوں کے ہائی اسکول کو بھی چنیوٹ منتقل کر دیا جائے اور مڈل اسکول لاہور میں ہی جاری رہے۔(۱۱) جس دوران جماعت نئے مرکز کے لئے زمین کے حصول کی کوششیں کر رہی تھی، مجوزہ مقام کے قریب جماعت کے تعلیمی ادارے قائم ہو چکے تھے۔اس طرح اس علاقہ میں ان اداروں کی حیثیت جماعت کے ہراول دستے کی تھی۔پاکستان میں پہلا جلسہ سالانہ : حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قائم کردہ روایات میں جلسہ سالانہ ایک اہم جماعتی روایت ہے۔لیکن اس سال پورا بر صغیر شدید بحران سے دو چار تھا۔خاص طور پر ہجرت کی وجہ سے جماعت کے پاس نہ تو مناسب جگہ تھی جہاں پر جلسہ کا انعقاد کیا جا سکے اور مالی مشکلات اس کے علاوہ تھیں۔مشرقی پنجاب سے آئی ہوئی جماعتیں ابھی مختلف مقامات پر منتشر تھیں اور آباد کاری کے تکلیف دہ مراحل سے گذر رہی تھیں۔پہلے تو خیال کیا جارہا تھا کہ اس سال جلسہ منعقد نہیں کیا جاسکے گالیکن وسط دسمبر میں حضور نے اعلان فرمایا کہ ۲۶ دسمبر کو جماعت کی مجلس مشاورت ہوگی اور ۲۶ اور ۲۷ کو محدود پیمانے پر جلسہ سالانہ منعقد ہو گا۔اس جلسہ میں مختلف جماعتوں کے دو ہزار احباب کو لاہور آنے کی دعوت دی گئی اور فیصلہ ہوا کہ جو احباب اپنے قیام کا خود انتظام کر سکتے ہیں وہ بھی شامل ہو سکتے ہیں۔چنانچہ مذکورہ تاریخ کو رتن باغ کے ہال میں مشاورت کا اجلاس ہوا۔جس میں موجودہ صورتِ حال میں مالی وسائل پیدا کرنے ، ذرائع تبلیغ ، جماعتی تنظیم اور قادیان کی حفاظت کے مسائل کا جائزہ لیا گیا۔اس مشاورت سے خطاب کرتے ہوئے حضور نے اس اصول کو تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ جہاں پاکستان کے احمدیوں کا فرض ہے کہ وہ حکومت پاکستان کے وفادار ر ہیں اور اس کی مضبوطی اور ترقی کے لئے کوشش کریں۔وہاں انڈین یونین میں رہنے والے احمدیوں کا فرض ہے کہ وہ انڈین یونین کے وفادار رہیں۔اگلے دو روز حسب پروگرام جلسہ کی کاروائی ہوئی۔اس کے افتتاحی خطاب میں حضرت مصلح موعودؓ نے ارشاد فرمایا۔