سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 191 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 191

191 جو دھامل بلڈنگ میں نظامت تجارت کا دفتر قائم کیا گیا۔مغربی پنجاب سے نقل مکانی کرنے والوں کے کاروبار حکومت کی طرف سے آنے والے مہاجرین کو الاٹ کئے جا رہے تھے۔یہ دفتر اس ضمن میں آنے والے احمدیوں کی راہنمائی کرتا اور ان کی مدد کرتا تا کہ وہ مناسب کا روبار شروع کر کے اپنے باعزت گذارے کی صورت پیدا کر سکیں۔حضرت امیر المومنین کی ہدایت کے مطابق تین وفود نے ڈیڑھ ماہ کے لئے مختلف علاقوں کے دورے کئے۔ان دوروں کی غرض یہ تھی کہ وہ احباب جماعت جو اس وقت پراگندہ حالت میں مختلف مقامات میں اپنے لئے معاشی وسائل کی تلاش کر رہے تھے انہیں امداد بہم پہنچائی جائے۔اور جماعتوں کو توجہ دلائی جائے کہ وہ ان احباب کی ہر ممکن امداد کریں۔یہ دورے بہت کامیاب رہے اور سال کے اندر اندر قریباً نوے فیصدی احباب ہجرت کے بعد آباد ہو چکے تھے (۹)۔الفضل میں اعلانات کرا کے اور دیگر ذرائع استعمال کر کے مشرقی پنجاب سے آنے والی مختلف جماعتوں کے متعلق معلومات اکھٹی کی گئیں کہ وہ کہاں کہاں پر موجود ہیں تاکہ ان کی مناسب مدد اور راہنمائی کی جاسکے۔بہت سے احمدیوں نے حضور کی تحریک کے مطابق اپنی پس انداز کی ہوئی رقوم جماعت کے امانت فنڈ میں جمع کرائی تھیں۔ان کی رقوم نہ صرف محفوظ رہیں بلکہ ان کو فوری طور پر لا ہور بھی منتقل کر دیا گیا اور جو اپنی امانت کو لاہور میں لینا چاہتا تھا ، اس کو وہیں اس کی ادئیگی کر دی گئی۔اس پر آشوب دور میں جہاں لاکھوں لوگ اپنی جمع پونجی سے محروم ہو گئے وہاں ان مخلصین کی امانتیں محفوظ رہیں اور انہوں نے ان سے اپنے کاروبار شروع کر دیئے۔وہ مصنفین جنہوں نے جماعت کی مخالفت میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے اس حقیقت کا اعتراف کئے بغیر نہ رہ سکے کہ اس حکمت عملی کی برکت سے احمدی سب سے پہلے اپنے پاؤں پر کھڑے ہو گئے۔چنانچہ ہفت روزہ المنیر ، جو فیصل آباد سے شائع ہوتا تھا ، میں جماعت کے خلاف معاندانہ مضامین کا ایک سلسلہ شروع کیا گیا مگر مصنف یہ اعتراف کئے بغیر نہ رہ سکا۔دو تقسیم ملک کے وقت مشرقی پنجاب کی یہ واحد جماعت تھی۔جس کے سرکاری خزانہ میں اپنے معتقدین کے لاکھوں روپے جمع تھے اور جب یہاں مہاجرین کی اکثریت بے سہارا ہو کر آئی۔تو قادیانیوں کا یہ سرمایہ جوں کا توں محفوظ پہنچ چکا تھا۔اور اس سے ہزاروں