سلسلہ احمدیہ — Page 179
179 رہا تھا۔ان کی کوشش تھی کہ کم از کم یہاں سے اسلام کا نام ہی مٹا دیا جائے۔اور یہ ظالم بڑی حد تک اس مقصد میں کامیاب ہو چکے تھے۔ہندوستان کی فوج اور پولیس بلوائیوں کا ساتھ دے رہی تھی۔وہ ہجرت کرنے والے مسلمانوں کی مدد تو کرتے مگر جو اپنا علاقہ چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوتے ان کی حفاظت نہ کی جاتی بلکہ بسا اوقات پولیس اور فوج حملہ آوروں کی مدد کرتی نظر آتی۔نہ صرف صوبائی حکومت مسلمانوں کی داد رسی نہیں کر رہی تھی بلکہ مرکزی حکومت نے بھی آنکھیں بند رکھنے کی پالیسی اپنائی ہوئی تھی۔پنڈت جواہر لال نہرو پریس کانفرنسوں میں اخبار نویسوں کو یقین دہانی کراتے کہ حکومت مسلمانوں کی حفاظت کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ایک پریس کا نفرنس میں ایک احمدی صحافیہ محترمہ بیگم شفیع صاحبہ نے قادیان کی حفاظت کے حوالے سے سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ فوج کو مختلف جگہوں پر بھجوایا جا چکا ہے، مسلمانوں کے مقدس مقامات کی حفاظت کے احکامات جاری کئے جاچکے ہیں اور قادیان میں ہر طرح امن ہے۔جب کہ حقیقت یہ تھی کہ قادیان ہر طرف سے خطرات میں گھرا ہوا تھا۔اس کے مضافات میں مسلمان دیہات تباہ کئے جارہے تھے اور یہاں پر رہنے والوں کو نکلنے پر مجبور کیا جا رہا تھا۔جس فوج کو بھجوانے کا حوالہ دیا جارہا تھا وہ بجائے مظلوموں کی حفاظت کرنے کے حملہ آوروں سے تعاون کر رہی تھی۔جب حضور کو فون پر وزیر اعظم کے اس بیان کی اطلاع دی گئی تو آپ نے فرمایا کہ نہرو سے کہو جیسا امن قادیان میں ہے ایسا امن تمہارے گھر میں ہو (۵۸)۔ان حالات میں جبکہ قادیان کے رہنے والے اپنے مقدس مقامات کی حفاظت کر رہے تھے، اور مضافات میں بہت سے احمدی شہید ہو چکے تھے، فوج نے مزاحمت کو توڑنے کے لئے ایک اور قدم اٹھایا۔۲۵ اگست کو میجر جنرل تھمایا (Thimmaya) قادیان کے معائنے کے لئے آئے اور کہا کہ یہ الزام لگایا گیا ہے کہ جماعت کے جہازوں سے سکھ آبادی پر حملہ کیا جاتا ہے اور اس بناء پر ان کی پرواز کو ممنوع قرار دے دیا گیا۔حالانکہ یہ جہاز بمباری کرنے کے قابل ہی نہیں تھے۔ان سے صرف علاقے کا جائزہ لیا جا سکتا تھا، ایک دوسواریوں کے سفر کرنے کے کام آسکتے تھے اور کچھ اشیاء کی ٹرانسپورٹ کا کام لیا جا سکتا تھا۔ایسی حالت میں جبکہ قادیان اکثر اوقات باقی دنیا سے منقطع رہتا تھا، یہ جہاز رابطے کا واحد ذریعہ تھے۔سید محمد احمد صاحب بیان فرماتے ہیں کہ جہاز کے ذریعہ اکثر اوقات رقوم یا قیمتی اشیاء حفاظت سے لاہور پہنچائی جاتی تھیں۔یا ضروری کا غذات لے