سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 158 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 158

158 لحاظ سے ایک قدرتی یونٹ ہے۔اور اسے ہندوستان کی تقسیم پر قیاس کرنا اور اس کا طبعی نتیجہ قرار دینا بالکل خلاف انصاف اور خلاف عقل ہے۔اگر صوبوں یعنی قدرتی یونٹوں کو اس لئے تقسیم کیا جا رہا ہے کہ اقلیتوں کے لئے حفاظت کا سامان مہیا کیا جائے۔تو اس صورت میں یوپی کے ۸۴ لاکھ اور بہار کے ۴۷ لاکھ اور مدراس کے ۳۹لاکھ مسلمان زیادہ حفاظت کے مستحق ہیں۔۔۔۔۔مید ادعا کہ پنجاب کی تقسیم آبادی کی بجائے جائیداد کی بناء پر ہونی چاہئیے۔نہ صرف جمہوریت کے تمام مسلمہ اصولوں کے خلاف ہے۔بلکہ اس سے مادی اموال کو انسانی جانوں پر فوقیت بھی حاصل ہوتی ہے۔جو ایک بالکل ظالمانہ نظریہ ہے۔(۴۰) ہندوؤں اور سکھوں کی حفاظت کرنے کا اعلان : جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ اس وقت قادیان کی ۸۵ فیصد آبادی احمدی تھی اور ویسے بھی ضلع گورداسپور میں مسلمان اکثریت میں تھے۔ان وجوہات کی بنا پر قادیان میں رہنے والے ہندوؤں اور سکھوں کے دلوں میں اپنی حفاظت کے بارے میں خدشات پیدا ہونا ایک قدرتی امر تھا۔اس پس منظر میں حضور نے ۲۳ مئی کے خطبہ جمعہ میں یہ اعلان فرمایا ” میں قادیان کے ہندوؤں اور سکھوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم ان کی اپنے عزیزوں سے بڑھ کر حفاظت کریں گے اور اپنی طاقت کے مطابق ہر ممکن ذریعہ سے ان کو محفوظ رکھنے کی کوشش کریں گے۔قادیان کے ہندو اور سکھ کم سے کم یہ تو ضرور جانتے ہیں کہ میں جھوٹ نہیں بولتا۔۔۔۔اس لحاظ سے میں سمجھتا ہوں کہ میرے اس اعلان کوسن کر وہ ضرور مطمئن ہو جائیں گے۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جو بات میں کہوں گا اس میں کسی قسم کا دہوکا نہیں ہوگا۔پس میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ یہ نہیں کہ صرف کمینگی اور ذلت کا سلوک ان سے نہیں کیا جائے گا۔بلکہ خطرے کی صورت میں ہم اپنے عزیزوں سے بڑھ کر ان کی حفاظت کریں گے۔‘ (۴۱)