سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 150 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 150

150 خیال تھا کہ یہ اقدامات محض انتقامی کاروائی کے طور پر کئے جارہے ہیں اور ان سے ملک کی معیشت کو نقصان پہنچے گا۔مسلم لیگ کا مؤقف تھا کہ بجٹ کا خسارا پورا کرنے کے لئے یہ اقدامات ضروری تھے اور یہ بوجھ سرمایہ داروں کو ہی اٹھانا پڑے گا۔غریب طبقہ پر مزید بوجھ نہیں ڈالا جاسکتا۔آئین ساز اسمبلی کا اجلاس ۱۱ دسمبر ۱۹۴۶ء کو طلب کیا گیا۔مسلم لیگ نے اعلان کیا کہ وہ اس وقت تک آئین ساز اسمبلی میں شریک نہیں ہوگی جب تک کانگرس کی طرف سے وزارتی مشن کے منصوبے کو مکمل طور پر قبول نہیں کیا جاتا۔اور اس بات کا اعلان نہیں کیا جاتا کہ آئین ساز اسمبلی میں اس منصوبے میں طے شدہ امور کو تبدیل نہیں کیا جائے گا۔مگر کانگرس اس پر آمادہ نہیں تھی۔چنانچہ آئین ساز اسمبلی کا اجلاس شروع ہو گیا اور مسلم لیگ کے ممبران کی نشستیں خالی رہیں۔آئین ساز اسمبلی نے جب اپنے مقاصد کے بارے میں قرارداد پاس کی تو مسلم لیگ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یہ قرارداد وزارتی مشن کی ان تجاویز کے برخلاف ہے جن پر دونوں پارٹیوں نے اتفاق کیا تھا ، اس لئے اس اسمبلی کو برطرف کر دینا چاہئیے۔اس کے جواب میں پنڈت جواہر لال نہرو نے مطالبہ کیا کہ چونکہ مسلم لیگ آئین ساز اسمبلی میں شرکت نہیں کر رہی اس لئے اس کے وزراء کو برطرف کر دینا چاہئیے۔اب صلح اور مفاہمت کی امیدوں کا چراغ ٹمٹماتا نظر آ رہا تھا۔کشیدگی میں اضافہ: دوسری طرف ہندوستان بھر میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی تھی۔جگہ جگہ فسادات ہو رہے تھے اور قیمتی انسانی جانیں ضائع ہو رہی تھیں۔بنگال، بہار، یوپی، پنجاب اور بمبئی میں تو خون خرابہ ہو ہی رہا تھا، اب دہلی میں بھی چھرا گھونپنے کی وارداتیں روز کا معمول بن چکی تھیں۔سرحد وہ واحد مسلمان اکثریت کا صوبہ تھا جس کی صوبائی اسمبلی میں کانگرس نے مسلم لیگ سے زائد نشستیں حاصل کی تھیں اور وہاں پر ڈاکٹر خان صاحب کی قیادت میں کانگرس کی وزارت بنی تھی۔مگر اس صوبے میں بھی تیزی سے رائے عامہ مسلم لیگ کے حق میں ہونے لگی حتی کہ جب پنڈت جواہر لال نہرو نے سرحد کا دورہ کیا تو ان کا استقبال سیاہ جھنڈوں اور مخالفانہ نعروں سے کیا گیا۔ایک مشتعل ہجوم نے ان کی گاڑی پر پتھراؤ شروع کر دیا۔ایک مرحلے پر ان شورش