سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 149 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 149

149 اکیلے گاندھی رہ گئے جس طرح انہوں نے حضور سے ملاقات میں اپنے آپ کو ظاہر کیا تھا۔بہر حال بہت سے لوگوں کی مخلصانہ کوششیں رنگ لائیں اور ایک کے بعد دوسری رکاوٹ دور ہوتی گئی۔بالآخر مسلم لیگ نے عبوری حکومت میں شمولیت کا فیصلہ کر لیا۔اور لیاقت علی خان صاحب، آئی آئی چندریگر ، راجہ غضنفر علی صاحب اور سردار عبدالرب نشتر صاحب کے علاوہ ہریجن قوم سے تعلق رکھنے والے ایک ہندو سیاستدان جوگندرا ناتھ منڈل صاحب مسلم لیگ کے نمایندے کے طور پر کابینہ میں شامل کئے گئے۔(۲۱ تا۲۹) مگر صرف کابینہ کے اجلاس میں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے سے فاصلے کم نہیں ہو سکتے تھے۔اس کے لئے باہمی اعتماد بحال کرنا ضروری تھا۔آپس میں تعاون کرنے کی ضرورت تھی۔مگر عملاً کدورتوں کے بادل وقت کے ساتھ اور گہرے ہوتے جارہے تھے۔وائسرائے ویول نے فیصلہ کیا کہ ایک اہم وزارت مسلم لیگ کو دی جائے گی۔کانگرس نے مسلم لیگ کو وزارت خزانہ کی پیشکش کی۔ابوالکلام آزاد صاحب لکھتے ہیں کہ کانگرس کے بہت سے لیڈروں کا خیال تھا کہ مسلم لیگ کے پاس اس اہلیت کا آدمی موجود نہیں جو یہ وزارت چلا سکے۔اگر مسلم لیگ اس پیشکش کو خود مستر د کرتی ہے تو کانگرس بری الذمہ ہو جائے گی اور اگر قبول کرتی ہے تو اس وزارت کو چلا نہیں پائے گی اور اس کو خفت اٹھانی پڑے گی۔صدر مسلم لیگ نے فوری طور پر اس پیشکش کو قبول نہیں کیا۔مگر چوہدری محمد علی صاحب اور دیگر مسلمان سرکاری افسران نے مشورہ دیا کہ فوراً اس وزارت کو قبول کر لینا چاہئیے۔کیونکہ یہ وزارت سب سے بااثر وزارت ثابت ہوگی۔یہ کانگرس کی ایک بڑی غلطی تھی۔وزارتِ خزانہ کا عملاً حکومت کے ہر شعبے میں عمل دخل ہوتا ہے۔جلد ہی کانگرس کے وزراء کو شکایت پیدا ہونے لگی کہ ان کی راہ میں بے جا روڑے اٹکائے جا رہے ہیں۔جب بجٹ پیش ہوا تو اختلافات میں اور اضافہ ہو گیا۔اس بجٹ میں تجویز کیا گیا تھا کہ جنگ کے دوران بڑے بڑے تاجروں اور صنعت کاروں نے بے تحاشہ مالی فوائد حاصل کئے ہیں مگر انکم ٹیکس نہیں دیا ، ان سے انکم ٹیکس کے بقایا جات وصول کرنے کے لئے ایک تحقیقاتی کمیشن بنانے کی ضرورت ہے۔اور بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کے لئے زیادہ ٹیکس امراء پر لگانے کی تجویز دی گئی۔۔ان سرمایہ کاروں کی اکثریت ہندو تھی۔اور ان میں سے بہت سے کانگرس کی مالی اعانت کرتے رہے تھے۔کانگرس میں ایک گروہ کا