سلسلہ احمدیہ — Page 146
146 تھے اور اس قتل و غارت سے ان کا دور کا بھی تعلق نہ تھا مگر پھر بھی کلکتہ میں احمدیوں کی دکانیں لوٹی گئیں اور بعض زخمی ہوئے۔لیکن کلکتہ کے احمدیوں نے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی توفیق کے مطابق بعض ہندؤوں اور سکھوں کو اپنے گھروں میں پناہ دی۔(۱۲)۔حضور نے انہیں پیغام بھجوایا کہ اگر وہ بچے صبر اور تو کل علی اللہ سے کام لیں گے تو یہ نقصان عارضی ہوگا اور وہ جلد ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائیں گے۔ڈھا کہ میں جماعت احمدیہ کے دار التبلیغ کو پہلے ہندو بلوائیوں نے لوٹا اور پھر آگ لگا دی۔اور مسجد احمدیہ کو جلا کر بالکل خاکستر کر دیا گیا۔قرآنِ کریم کے نسخوں، لٹریچر اور دفتر کے ریکارڈ کو آگ لگا دی گئی۔مجبوراً صوبائی جماعت کا دفتر برہمن بڑ یہ منتقل کرنا پڑا (۱۳)۔بہار میں ایک احمدی ڈاکٹر طبی خدمات کے لئے ایک میلے میں گئے تھے۔ہندو بلوائیوں نے انہیں بے دردی سے شہید کر دیا اور ان کی بیوی کو دریا میں پھینک دیا۔بہار میں بھاگلپور کی جماعت نے حضور کی خدمت میں پیغام بھجوایا ” مسلمانانِ بہار پر مظالم کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔مظالم توڑنے میں عورت مرد اور بچے بوڑھے کا کوئی امتیاز نہیں کیا جاتا۔اصل حالات کو مخفی رکھا جا رہا ہے۔۔۔۔مہربانی فرما کر دعا فرماویں۔اور مرکزی حکومت کے ذریعہ اور پبلک میں اصل حققیت کے اظہار کے ذریعہ امداد فرماویں۔ہماری جانوں کی حفاظت کے لئے یہ ایک ڈوبتے ہوئے جہاز کی صدا سمجھیں‘‘ (۱۴)۔اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہمیشہ سے جماعت احمد یہ بلا امتیاز ہر ظلم کی مذمت کرتی رہی ہے اور ہر مذہب اور قوم کے مصیبت زدگان کی خدمت میں پیش پیش رہی ہے۔گاندھی جی بنگال میں فسادات رکوانے کے لئے بنگال کا دورہ کر رہے تھے اور نو اکھلی کے ہندو مظلومان کی مدد کے لئے بھی کوششیں کر رہے تھے۔جماعت کی طرف سے گاندھی جی کو نو کھلی کے متاثرین کی مدد کے لئے عطیہ بھجوایا گیا۔اور قائد اعظم کو بہار کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لئے رقم بھجوائی گئی۔جواب میں ان کی طرف سے شکریے کا یہ پیغام موصول ہوا آپ کا خط اور چیک مل گیا۔آپ کی امداد کے لئے بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں۔میں بہار کی امداد کے لئے حتی الوسع کوشش کر رہا ہوں۔ہر طرف سے امداد کی سخت ضرورت ہے۔صورتِ حال بڑی نازک ہے۔بہت بڑی مہم درپیش ہے۔(۱۶،۱۵) بعد میں بہار کے حالات مزید بگڑ گئے تو حضور نے جماعت کے ڈاکٹروں کو حکم فرمایا کہ وہ بہار