سلسلہ احمدیہ — Page 145
145 د مسلم لیگ نے ہمیں بحیثیت جماعت اپنے ساتھ شامل ہی نہیں کیا۔اس لئے اس کی طرف سے تو کسی ہدایت کے ہم پابند نہیں ہو سکتے۔پس جہاں تک مسلم لیگ کے نقطہ نگاہ کا سوال ہے۔اگر ہم اس کے احکام کی پابندی نہ کریں تو اسے کوئی شکوہ نہیں ہونا چاہئیے کیونکہ وہ ہمیں اپنا حصہ ہی قرار نہیں دیتی۔اور جہاں تک ہمارے نقطہ نگاہ کا تعلق ہے ہم جس حد تک جائز اور مناسب سمجھیں گے لیگ کی مدد کریں گے۔اگر لیگ ہمیں اپنے ساتھ شامل کرے تو اس صورت میں بھی یہ سمجھوتہ کرنا پڑے گا کہ وہ ہم سے کوئی ایسا مطالبہ نہ کرے جسے ہم مذہباً نا جائز سمجھتے ہوں۔“ اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ اس وقت راست اقدام کی تفصیلات پر بحث کرنا مناسب نہیں۔اگر اس موقع پر خاموشی اختیار کی جائے اور ذمہ دار لوگوں کو موقع دیا جائے کہ وہ تمام نشیب و فراز دیکھ کر مناسب فیصلہ کریں تو مسلم لیگ کے لئے زیادہ بہتر ہوگا۔(۱۱) فسادات کا آغاز اور جماعت احمدیہ کی خدمات: ۱۲ اگست ۱۹۴۶ء کو وائسرائے نے پنڈت جواہر لال نہرو کو عبوری حکومت بنانے کی دعوت دی۔انہوں نے مسلم لیگ کو کابینہ میں شامل ہونے کی دعوت دی مگر مسلم لیگ نے اسے فوراً ہی مسترد کر دیا۔۱۶ اگست کو کلکتہ میں ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے۔کلکتہ میں ہندو اکثریت میں تھے۔۱۶ راگست کو مسلمانوں کے ایک گروہ نے ہندوؤں پر حملہ کر دیا۔جواب میں ہندوؤں نے مضافات میں مسلم آبادیوں پر ہلہ بول دیا۔اگلے روز سکھ بھی ہندوؤں کے ساتھ مل گئے۔کلکتہ کی تاریخ میں اتنی بہیمانہ قتل و غارت کبھی نہیں ہوئی تھی۔جلد ہی اس آگ نے بنگال کی حدود سے نکل کر بہار اور یوپی کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔بہار میں مسلمان اقلیت میں تھے۔ان پر قیامت ٹوٹ پڑی۔ہزاروں مسلمان موت کے گھاٹ اتار دئے گئے۔بنگال کے ایک گاؤں نواکھلی میں مسلمان اکثریت میں تھے۔ان کے ایک گروہ نے ہندؤں کی قتل و غارت شروع کر دی۔ہر طرف نفرت کا آسیب رقص کر رہا تھا۔اب یہ فقط ایک سیاسی تنازع نہیں تھا۔ہندوستان کے معاشرے کا تانا بانا ٹوٹ رہا تھا۔لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہورہے تھے۔حالانکہ احمدی ہر لحاظ سے پرامن