سلسلہ احمدیہ — Page 3
3 برطانوی مشرقی افریقہ میں جماعت کا قیام اس خطے میں کینیا ، یوگنڈا اور تنزانیہ کے ممالک آتے ہیں۔ہم جس دور کا ذکر کر رہے ہیں ،اس میں آج کا تنزانیہ، زنجبار کی سلطنت اور ٹانگا نیکا کے علاقے میں منقسم تھا جو بعد میں مل کر ایک ملک بن گیا۔اس دور میں یہ علاقہ برطانیہ کے زیر تسلط ہونے کی وجہ سے برطانوی مشرقی افریقہ کہلاتا تھا۔ابتداء میں اس علاقے میں مختلف قبائل آباد تھے اور یہ قبائل مختلف دیوتاؤں کو مانتے تھے۔(۱) پہلی صدی ہجری میں مسلمان یہاں کے ساحلی علاقوں میں آباد ہونا شروع ہو گئے۔سب سے پہلے عمان سے ایک قبیلہ کے لوگ یہاں آئے ، جن کا تعلق ابازی فرقہ سے تھا جو خوارج کی ایک شاخ ہے۔پھر عمان سے ہی شافعی مسلک کے کچھ لوگ مشرقی افریقہ آئے اور اندرونی علاقے میں آباد ہوئے۔اور اس کے بعد شیراز کے شاہی خاندان کے ایک فردحسن بن علی کی قیادت میں ایک گروہ سات جہازوں کے بیڑے میں یہاں آیا۔یہ لوگ شیعہ تھے۔انہوں نے ساحل کے ساتھ چھوٹے چھوٹے جزائر میں رہائش اختیار کی۔ان لوگوں نے مقامی لوگوں میں شادیاں کیں اور ان کی اولا دکو سواحیلی کہا جانے لگا۔پھر مقامی لوگ بھی مسلمان ہونے لگے اور مشرقی افریقہ کے ساحلی علاقوں میں اسلام پھیلنے لگا۔عرب نسل کے لوگوں کی بڑی تعدا دا بازی فرقے سے وابستہ تھی۔زنجبارا بازیوں کا بڑا مرکز سمجھا جاتا تھا اور ان کا سلطان بھی ابازی تھا۔مگر مقامی مسلمانوں کی اکثریت شافعی تھی۔مسلمانوں نے چار پانچ سوسال مشرقی افریقہ کے ساحلی علاقوں پر حکومت کی مگر اندرونی علاقوں کی آبادی کو اسلام کی تبلیغ کرنے کی کوئی خاص کوشش نہ کی۔اور یہ وسیع علاقہ اسلام کی نعمت سے محروم رہا (۲)۔انیسویں صدی کے آغاز اور وسط میں زنجبار کے شاہی خاندان کے کاروباری روابط یوگنڈا، روانڈا اور برونڈی تک تھے۔انہوں نے اسلام کی تعلیم کے خلاف غلاموں کی تجارت تو کی مگر اسلام کی تبلیغ پر کوئی توجہ نہ دی۔انیسویں صدی کے پہلے پچاس سال میں ابازی حکمران سعید بن سلطان مسقط اور زنجبار دونوں پر حکومت کر رہے تھے۔مگر اس خطے میں یوروپی اقوام کا تسلط شروع ہو چکا تھا۔اس پس منظر میں 1844ء میں چرچ مشنری سوسائیٹی نے اپنے مشنری Dr۔Krapf کومشرقی