سلسلہ احمدیہ — Page 118
118 میں ہالینڈ کے وزیر اعظم نے بھی کہا کہ یہاں ان لوگوں کو وقت ضائع کر کے کیا ملے گا۔ان لوگوں کو چاہئیے کہ کسی اور جگہ اپنے وقت کو صرف کریں۔(۲)۔بہت سے اخبارات نے بھی مشن کے قیام کا تعجب کے ساتھ ذکر کیا اور بعض نے تو اس بات کا برملا اظہار بھی کیا کہ یہاں پر احمدیوں کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔(۳) بہر حال انفرادی ملاقاتوں، ٹریکٹوں کی اشاعت اور لیکچروں کے ذریعہ تبلیغ شروع کی گئی اور کچھ بیعتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔سب سے پہلے ایک خاتون نے بیعت کی ، جن کا اسلامی نام رضیہ رکھا گیا۔پھر مسٹر کو پے نام کے ایک ڈچ نے جو علوی فرقہ کے زیر اثر مسلمان ہو چکے تھے بھی بیعت کر لی۔اس کے بعد ڈچ مترجم قرآن مسز زمر مین نے بھی احمدیت قبول کر لی۔حضور نے ہدایت فرمائی کہ ڈچ ترجمہ قرآن کی اشاعت کا انتظام کیا جائے چنانچہ تمام مراحل سے گذر کر ۱۹۵۳ء میں یہ ترجمہ شائع ہو گیا۔(۱) الفضل ۶ استمبر ۱۹۴۸ء ص ۵ (۲) افضل ۲۸ جولائی ۱۹۴۸ء ص ۶ (۳) خالد امان ۱۳۴۸حش عدن: عدن میں سب سے پہلے احمدیت کا نام احمدی ڈاکٹروں کے ذریعہ پہنچا۔۱۹۴۶ء میں پانچ احمدی ڈاکٹر عدن میں کام کر رہے تھے۔انہوں نے حضرت مصلح موعود کی خدمت میں گذارش کی کہ جماعت عدن میں اپنا مشن کھولے ، اس کے اخراجات اٹھانے میں وہ مدد کریں گے۔چنانچہ مولوی غلام احمد صاحب مبشر کو بطور مبلغ عدن بھجوایا گیا۔انہوں نے تبلیغ کیلئے انتھک کوششیں شروع کیں۔انفرادی تبلیغ کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور سلسلہ کا دیگر لٹریچر تقسیم کرنا شروع کیا۔غیر احمدی مسلمانوں اور عیسائیوں، دونوں کی طرف سے مخالفت کا طوفان کھڑا گیا۔علماء اور پادریوں نے حکام سے شکایتیں کر کے تبلیغ رکوانے کی سر توڑ کوششیں شروع کیں۔ایک ایک کر کے سعید روحیں بیعت کر کے جماعت میں داخل ہونے لگیں۔شیخ عثمان کے مقام پر جماعت کا دار التبلیغ قائم کیا گیا۔۱۹۴۹ء میں مولوی غلام احمد صاحب مبشر بیماری کی وجہ سے وطن واپس آگئے۔(۱) (۱) تاریخ احمدیت جلد ۲ ص ۲۴۳ تا ۲۵۳