سلسلہ احمدیہ — Page 117
117 رہی تھی۔یہاں پر سب سے پہلے ایک خاتون نے احمدیت کو قبول کیا اور ان کا اسلامی نام محمودہ رکھا گیا۔(۲۱) (۱) تاریخ احمدیت جلد ۲ ص ۷۶ تا ۸۶ (۲) الفضل ۱۸ مارچ ۱۹۴۸ء ہالینڈ: ہالینڈ میں مشن کا قیام ۱۹۴۷ء میں آیا۔لیکن اس سے پہلے ایک ڈچ احمدیت کو قبول کرنے کی سعادت حاصل کر چکے تھے۔یہ ڈچ ظفر اللہ کاخ صاحب تھے جنہوں نے لندن میں مکرم مولانا جلال الدین شمس صاحب کے ذریعہ احمدیت قبول کی تھی۔دوسری جنگ عظیم کے دوران جب مختلف یوروپی زبانوں میں قرآن کریم کا ترجمہ کرنے کا کام شروع ہو ا تو ڈچ زبان میں بھی ترجمہ کیا گیا۔یہ کام ایک ترجمہ کرنے والے بیورو کے سپرد کیا گیا۔اس بیورو نے ایک ڈچ خاتون مسر زمر مین (Zimmerman) سے بھی ترجمے کے لئے رابطہ کیا۔یہ خاتون جب اس ترجمے کے ابتدائی تھیں چالیس صفحے مکمل کر کے اس بیورو کے دفتر گئیں تو وہاں کے ڈائیرکٹر سے طویل گفتگو ہوئی۔اس ڈائرکٹر نے بار بار قرآنِ کریم کے متعلق توہین آمیز الفاظ استعمال کئے۔اور اس کے ٹائپسٹ نے بھی اس توہین آمیز اور مضحکہ خیز گفتگو میں حصہ لیا۔چند دن کے بعد وہ ڈائرکٹر بیمار ہوکر اس دنیا سے کوچ کر گیا اور تین ہفتے کے بعد ٹائپسٹ کی بھی موت واقع ہو گئی۔مسز زمر مین پر اس نشان کا گہرا اثر ہوا۔اور اسلام میں ان کی دلچسپی بڑھنی شروع ہوئی۔(۱) جولائی ۱۹۴۷ء میں جماعت کے مبلغ حافظ قدرت اللہ صاحب کچھ عرصہ لندن میں کام کر کے ہالینڈ پہنچے اور ہیگ کی کولمبس سٹریٹ میں ایک کمرہ کرایہ پر لے کر تبلیغ کا کام شروع کر دیا۔اس دور میں یوروپی اقوام کا پوری دنیا پر غلبہ تھا اور یہاں سے پوری دنیا میں مشنری عیسائیت کی تبلیغ کے لئے جاتے تھے۔ہالینڈ ایک طویل عرصہ تک انڈونیشیا کے علاقے پر قابض رہا اور اس طرح یہاں کے لوگوں کو اسلام سے کچھ تعارف حاصل ہوا۔ان دنوں میں ہالینڈ میں صوفی موومنٹ کا بھی اثر تھا۔مگر جب جماعت نے یہاں پر اپنے مشن کا با قاعدہ آغاز کیا تو یہ امر بہت سے لوگوں کے لئے حیرت کا باعث ہوا کہ اب مسلمان انہیں اسلام کی طرف مائل کرنے کی کوشش کریں گے۔چنانچہ ایک مجلس