سلسلہ احمدیہ — Page 116
116 تھی۔مکرم کرم الہی ظفر صاحب نے زبان سیکھنی شروع کی۔مبلغین ستے مکان کی تلاش میں تھے کہ ایک ایجنسی نے ان کے ساتھ ایک روسی نوجوان کو کر دیا۔یہ ترجمان خود پر یشانیوں میں مبتلا تھا مگر مبلغین سے بہت ہمدردی سے پیش آیا۔اس کے اخلاق کی وجہ سے انہوں نے حضور کی خدمت میں اس نوجوان کے لئے دعا کی درخواست کی۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اُس کی پریشانیاں دور ہوگئیں۔دعا کی قبولیت دیکھ کر اس سعید نوجوان نے اسلام قبول کر لیا۔یہ پہلا پھل تھا جو اس ملک میں احمدیت کو عطا ہوا۔اگلے برس دو ہسپانوی باشندوں کو بھی اسلام قبول کرنے کی سعادت ملی۔(۲۱) (۱) تاریخ احمدیت جلد ۲ ص ۲۶ تا ۴۱ (۲) الفضل ۲۰ ستمبر ۱۹۴۶ء ص ۳ سویٹزرلینڈ : وسطی یورپ کے اس ملک میں جماعت کا مشن ۱۹۴۶ء میں قائم ہو ا تھا۔کچھ مبلغین کو جرمنی تبلیغ کیلئے بھجوایا گیا تھا۔لیکن انہیں وہاں جانے کی اجازت نہیں ملی۔پھر ہالینڈ بھجوانے کی کوششیں ہوئیں مگر اس میں بھی کامیابی نہیں ہوئی۔چنانچہ حضور نے ان کو سویٹزرلینڈ جانے کا ارشاد فرمایا۔۱۳ /اکتوبر ۱۹۴۶ء کو مکرم عبد اللطیف صاحب ، مولوی غلام احمد بشیر صاحب اور شیخ ناصر احمد صاحب زیورچ پہنچے۔اکثر مقامی باشندوں کو یہ سن کر حیرت زدہ ہو جاتے کہ کوئی مسلمان اپنا دین پھیلانے کے لئے یہاں پر آسکتا ہے۔بلکہ بہت سے مقامی لوگ یہ سن کر بے یقینی سے ہنس دیتے۔مبلغین نے جرمن زبان سیکھنی شروع کی۔۱۹۴۷ء میں مشن نے یہاں پر قبر مسیح کے متعلق ایک ٹریکٹ شائع کیا۔اس ٹریکٹ کے شائع ہونے کی دیر تھی کہ حقارت غیظ و غضب میں بدل گئی۔لوگوں نے مبلغین کو سخت کلامی سے لبریز خطوط لکھے، اخبارات نے اپنے کالموں میں دلائل کی بجائے استہزاء کا سہارا لیا، اور چرچ کے عمائدین نے فیصلہ کیا کہ بہتر ہوگا کہ احمدی مبلغین کو مزید ویزا نہ ملنے دیا جائے۔اور جس جگہ پر مبلغین کی رہائش تھی اس مکان کی مالکن کو پادریوں نے پیغام بھجوایا کہ اس نے ان مسلمان مبلغوں کو رہنے کی جگہ کیوں دی ہوئی ہے۔اور تو اور پولیس والوں نے بھی مخالفت شروع کر دی۔مگر اسلام کا پیغام لوگوں تک پہنچایا جا رہا تھا اور تبلیغی میٹنگوں میں شرکت کرنے والوں کی تعداد بھی بڑھ