سلسلہ احمدیہ

by Other Authors

Page 112 of 753

سلسلہ احمدیہ — Page 112

112 بھی ہو۔گرتے پڑتے ہمت سے کام کرنا ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے ہی چونکہ وہ کام کرنا ہے۔اس لئے ہماری کوشش کتنی کم کیوں نہ ہو۔یہ یقین ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ ہمیں اس کام کو پورا کرنے کی توفیق دے گا۔۔۔لیکن یہ سکیم پوری طرح کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک ایسے افراد زیادہ تعداد میں نہ ہوں جو دین کے لئے اپنی زندگیاں وقف کریں۔جسمانی کام ایک ایک آدمی سے بھی چل سکتے ہیں۔کیونکہ جسم کا فتح کرنا آسان ہے۔مگر روحانی کاموں کے لئے بہت آدمیوں کی ضرورت ہوا کرتی ہے کیونکہ دلوں کا فتح کرنا بہت مشکل کام ہے۔اس لئے ضرورت ہے کہ ہمارے پاس اتنے معلم ہوں کہ ہم انہیں تمام جماعت میں پھیلا سکیں۔۔دنیوی علوم حاصل کرنے والے نوجوان بھی اگر اپنے نام پیش کریں تو ان کو بھی ایسی تعلیم دی جاسکتی ہے کہ دین کا کام ان سے لیا جا سکے۔۔۔۔ڈاکٹروں کی ضرورت ہے۔ادنی اقوام میں تبلیغ کے لئے ڈاکٹر بہت زیادہ مفید ہو سکتے ہیں بلکہ ان کے لئے ان سے زیادہ بہتر مبلغ کوئی نہیں ہوسکتا۔(۵) حضور کے اس ارشاد پر لبیک کہتے ہوئے ہندوستان اور ہندوستان سے باہر بسنے والے بہت سے احمدیوں نے وقف کرنے کی سعادت حاصل کی۔کمیونسٹ نظریات کے مطالعے کی تحریک: ۱۹۴۴ء میں جوں جوں جنگِ عظیم کا خاتمہ نزدیک نظر آرہا تھا، اس بات کے آثار واضح ہوتے جا رہے تھے کہ دنیا کے کئی ممالک کمیونسٹ بلاک کے زیر اثر چلے جائیں گے۔سوویٹ یونین کی افواج کے آگے بڑھنے کے ساتھ مشرقی یورپ کے ممالک اس کے تسلط میں آرہے تھے اور ایشیا میں چین جیسے اہم ملک میں ان نظریات کے حامیوں کا زور بڑھ رہا تھا۔کمیونسٹ نظریات کے حامی دینی نظریات کی تحقیر میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے تھے۔یہاں تک کہ ڈراموں اور فلموں میں ہستی باری تعالٰی پر تمسخر کیا جاتا۔جہاں ان کی حکومت قائم ہوتی وہاں مذہبی آزادی پر قدغن لگا دی جاتی اور لوگوں کو مذہب سے بیزار اور دہریت کی طرف مائل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی۔البتہ اب تک ہندوستان میں کمیونسٹ پارٹی کو کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی تھی۔اس پس منظر میں پہلے کشمیر