سلسلہ احمدیہ — Page 109
109 دعوی مصلح موعود کے بعد مختلف تحاریک خاندان حضرت مسیح موعود کو وقف کی تحریک: دعوی مصلح موعود کے بعد اب حضرت خلیفتہ المسیح ثانی کی خلافت کا نیا دور شروع ہو رہا تھا۔اور جماعت کی ذمہ داریاں پہلے سے بہت بڑھ چکی تھیں۔اس پس منظر میں اس بات کی ضرورت تھی کہ خدمت اور قربانی کی نئی منازل کی طرف بڑھا جائے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے سب سے پہلے حضرت مسیح موعود کے خاندان کو تحریک فرمائی کہ وہ آگے آئیں اور اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کریں۔چناچہ ار مارچ ۱۹۴۴ء کو حضور نے خطبہ جمعہ میں فرمایا۔۔میں ان باتوں کو جلدی جلدی اس لئے کہہ رہا ہوں کہ میں نہیں جانتا میری کتنی زندگی ہے۔میں اس مقام پر سب سے پہلے اپنے خاندان کو نصیحت کرتا ہوں کہ دیکھو ہمارے اوپر اللہ تعالیٰ کے اس قدر احسانات ہیں کہ اگر سجدوں میں ہمارے ناک گھس جائیں، ہمارے ماتھوں کی ہڈیاں گھس جائیں تب بھی ہم اس کے احسانات کا شکر ادا نہیں کر سکتے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری موعود کی نسل میں ہمیں پیدا کیا ہے۔اور اس فخر کے لئے اس نے اپنے فضل سے ہمیں چن لیا ہے۔پس ہم پر اک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہے۔دنیا کے لوگوں کے لئے دنیا کے اور بہت سے کام پڑے ہوئے ہیں۔مگر ہماری زندگی تو کلیتاً دین کی خدمت اور اسلام کے احیاء کے لئے وقف ہونی چاہئیے۔مگر میں دیکھتا ہوں ہمارے خاندان کے کچھ افراد دنیا کے کام میں مشغول ہو گئے ہیں۔بے شک وہ چندے بھی دیتے ہیں۔بے شک وہ نمازیں بھی پڑھتے ہیں۔بے شک وہ اور دینی کاموں میں بھی حصہ لیتے ہیں۔مگر یہ وہ چیز ہے جس کی اللہ تعالیٰ ہر مومن سے امید کرتا ہے۔ہر مومن سے وہ توقع کرتا ہے۔کہ وہ جہاں دنیا کے کام کرے وہاں چندے بھی دے۔وہاں نمازیں بھی پڑھے۔وہاں دین کے اور کاموں بھی حصہ لے۔پس اس لحاظ سے ان میں