سلسلہ احمدیہ — Page 105
105 پر بھی ایسا ہی ہوا۔لدھیانہ وہ مقام تھا جہاں حضرت مسیح موعود نے پہلی بیعت لی تھی۔اس کے پورے پچپن سال کے بعد ، حضرت مصلح موعودؓ نے ۲۳ مارچ کو وہاں جلسہ کرنے کا فیصلہ فرمایا۔اس کی اطلاع ملتے ہی احراری مولویوں نے اس کی مخالفت شروع کر دی اور اسی تاریخ کو لدھیانہ میں اپنا جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کر دیا۔پہلے حکومت کو درخواست دی کہ احمدیوں کے جلسے پر پابندی لگائی جائے۔جب اس میں ناکامی ہوئی تو اخباروں میں شور مچانا شروع کیا اور غیر اخلاقی حرکتوں پر اتر آئے۔عوام کو مشتعل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور دھمکیاں دی گئیں کہ اگر احمدیوں نے اپنا جلسہ منعقد کیا تو احرار سخت فساد برپا کریں گے۔۲۳ مارچ کو ان کا اندرونہ خوب اچھی طرح ظاہر ہو رہا تھا۔اپنے میں سے ایک لڑکے کا منہ کالا کر کے اسے گدھے پر سوار کر کے جلوس نکالا اور ایک مصنوعی جنازہ بنا کر سینہ کوبی کی گئی۔سڑک پر جاتے ہوئے احمدیوں پر جوتے اور پتھر پھینکے۔اس سے دل نہ بھرا تو گالیاں نکالنے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔حضرت مصلح موعودؓ ” جب دار البیعت میں دعا کرنے کے بعد بھدوڑ ہاؤس کے وسیع میدان میں نماز پڑھانے کے لئے تشریف لائے تو ان اوباشوں کا مجمع جلسہ گاہ کے قریب کھڑا گالیاں نکال رہا تھا۔عین اس وقت بارش شروع ہو گئی۔موسلا دھار بارش میں ظہر وعصر کی نمازیں نہایت اطمینان اور خشوع و خضوع سے ادا کی گئیں۔نمازوں کے بعد حضور نے فرمایا دوست اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہیں اب جلسہ شروع ہوتا ہے۔مخالفین کا ہجوم جو کچھ دیر پہلے تک خوفناک دھمکیاں دے رہا تھا ،صرف بارش سے ہی تر بتر ہو گیا۔مگر نہ صرف احمدی شرکاء بلکہ دیگر مسلم و غیر مسلم شرفانے بھی موسلا دھار بارش کے باوجود اطمینان سے جلسے کے اختتام تک ساری کارروائی میں شرکت کی۔جب حضور نے قرآنی دعاؤں کی تلاوت کی تو شدت جذبات سے بہت سے احباب کی چیخیں نکل گئیں۔حضور نے پیشگوئی مصلح موعود کے مصداق ہونے کا اعلان فرمایا اور ان لوگوں کے لئے بھی دعا کی جنہوں نے ہر قسم کی غیر اخلاقی حرکات کر کے جماعت کے جلسے کو روکنے کی کوشش کی تھی۔۔حضور کے خطاب کے بعد مبلغین سلسلہ نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر تقاریر کیں اور ان کے بعد حضرت چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے بھی ایک مختصر تقریر فرمائی۔دیکھنے والوں نے دیکھا محسوس کرنے والوں نے محسوس کیا کہ اس موقع پر احمدی اپنے محبوب امام کی قیادت میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کر رہے تھے، اپنے آنسوؤں کا نذرانہ پیش کر رہے تھے۔اور مخالفین گالیاں دے