سلسلہ احمدیہ — Page 102
102 ہوشیار پور، لاہور، لدھیانہ اور دہلی میں حضرت مصلح موعودؓ کے جلسے پسر موعود کے متعلق حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی کا پورا ہونا اور اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا یہ اعلان فرمانا کہ یہ پیشگوئی آپ کی ذات میں پوری ہوئی ہے، جماعت احمدیہ کی تاریخ کا ایک اہم واقعہ تھا۔چنانچہ تحدیث نعمت اور اتمام حجت کے لئے مختلف مقامات پر جلسوں کا فیصلہ کیا گیا تا کہ پوری دنیا کے سامنے اس پیشگوئی کے پورے ہونے کا اعلان کیا جائے۔یہ جلسے ہوشیار پور، لاہور، لدھیانہ اور دہلی میں منعقد کئے گئے۔اس سلسلے کا پہلا جلسہ ۲۰ فروری ۱۹۴۴ء کو ہوشیار پور میں منعقد ہوا۔ہوشیار پور ہی وہ مقام تھا جہاں پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے چلہ کشی فرمائی تھی اور جہاں آپ کو پسر موعود کے وعدے سے نوازا گیا تھا۔یہ جلسے عام دنیاوی جلسوں کی طرز پر نہیں کئے جارہے تھے۔ان کے مقاصد بہت اعلیٰ اور سراسر روحانی تھے۔چناچہ اس جلسہ سے چار روز قبل حضرت خلیفہ اسیح ثانی نے الفضل میں یہ اعلان شائع فرمایا پس یہ موقع خشیت اور تقوے اللہ کے اظہار کا ہے۔۔۔صرف وہی لوگ اس جلسے میں شامل ہوں جو دعائیں کر نیوالے استغفار کرنے والے۔حمد کرنے والے اور ذکر کرنے والے ہیں۔اور اس جگہ پر جب تک رہیں۔اس امر کا تعہد کریں۔کہ نہ بلا وجہ بات کریں۔نہ ہنسی مذاق کریں۔نہ بنسی تمسخر سے کام لیں۔بلکہ تمام وقت سنجیدہ رہیں۔اور دعاؤں اور استغفار میں مشغول رہیں۔پس اس بات کا خیال رہے کہ لڑکے اور چھوٹی عمر کے نوجوان وہاں نہ جائیں۔نہ وہ جو اپنی طبیعتوں پر قابو نہیں رکھ سکتے۔اگر آپ نے میری نصیحت پر عمل کیا۔تو یہ عمل آپ کا مقبول بارگاہِ الہی ہو گا۔ورنہ آپ اپنے عمل کو ضائع کر لینگے۔اور شاید بعض غضب الہی کو بھڑ کا لیں۔‘(۱) ہوشیار پور کے جلسے کا انتظام ایک ایسے میدان میں کیا گیا تھا جو اس مکان کے قریب تھا جس