سلسلہ احمدیہ — Page 101
101 حضرت مرزا شریف احمد صاحب بھی اس پیشگوئی کے بعد پیدا ہوئے تھے۔آج حضرت مسیح موعود کی اولا دسینکڑوں کی تعداد میں دنیا کے تین بر اعظموں میں موجود ہے۔اور پسر موعود کے متعلق اس نے پیشگوئی کی تھی کہ اسے قادیان میں بھی زیادہ لوگ نہیں جانتے ہوں گے۔کوئی مخالف بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ پیشگوئی صحیح نکلی۔آج دنیا کے ایک سو پچاسی ممالک میں آپ کے خدام موجود ہیں۔پنڈت لیکھرام کے خدا نے تو کہا تھا کہ تین سال میں یہ سلسلہ ختم ہو جائے گا۔اس وقت تو محض چند خدام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ تھے اور اور بیعت لینے کا سلسلہ بھی ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔مگر آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ دنیا بھر میں جماعت موجود ہے۔ایک ایک ملک میں لاکھوں احمدی موجود ہیں اور خدا کا لگایا ہوا یہ پودا ایک تناور درخت بن چکا ہے۔پسر موعود کی پیشگوئی میں حضور کا یہ الہام بھی تھا کہ خدا آپ کی دعوت کو دنیا کے کناروں تک پہنچا دے گا۔اس وقت تو ہندوستان سے باہر آپ کو کوئی نہیں جانتا تھا۔کیا آج کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ یہ پیشگوئی پوری نہیں ہوئی ؟ ہندو ا حباب کو اس بات پر توجہ کرنی چاہئیے کہ ان کے نمائیندے نے خدا سے الہام پانے کا دعویٰ کر کے جو پیشگوئیاں کی تھیں ان میں سے تو ایک بھی ٹھیک نہ نکلی لیکھرام کا خدا، آخر کیسا خدا تھا؟ نہ تو اسے بچا سکا اور نہ ہی اپنے کسی قول کو پورا کر سکا۔انتظار کرتے کرتے سو سال سے بھی زائد عرصہ گذر گیا مگر وقت کے ساتھ اس کی پیشگوئیوں کا بطلان اور زیادہ ظاہر ہوتا گیا۔دوسری طرف حضرت مسیح موعود کی پیشگوئی پوری شان سے پوری ہوئی اور ایک عالم اس کی صداقت کا گواہ بن گیا۔اور جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خبر دی تھی حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آ گیا اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ گیا۔(1) Arya Dharam by Kenneth Jones, University of California Press, 1976 page 148 (۲) روحانی خزائن جلد ۵ ص ۶۴۷ (۳) مجموعه اشتہارات جلد اول بار دوم ص ۹۸ (۴) مجموعہ اشتہارات جلد اول بار دوم ص ۱۴۶ (۵) روحانی خزائن ج ۵ ص ۶۵۰ (۶) کلیات آریہ مسافرص ۴۹۳ ۵۰۰ مطبوعه ۱۹۰۴ء ( ۷ ) مجموعہ اشتہارات جلد اول بار دوم ص ۱۲۴-۱۲۵ (۸) مجموعہ اشتہارات جلد اول بار دوم ص ۳۰۴-۳۰۵ (۹) اندرونی اختلافات کے اسباب ناشر انجمن اشاعت اسلام لا ہور دسمبر ۱۹۱۴ء ص ۷۲۔۷۳ (۱۰) الفضل یکم فروری ۱۹۴۴ ص ۱ تا ۸ (۱۱) الفضل ۳۰ جنوری ص ۱ (۱۲) روحانی خزائن جلد ۱۸ ص ۵۸۹