سلسلہ احمدیہ — Page 100
100 میں درج ہے کہ وہ تین کو چار کرنے والا ہو گا، چنانچہ اس کے مطابق آپ حضرت مسیح موعود کے چوتھے بیٹے تھے۔اور آپ کی خلافت کے دور میں حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کو قبولِ احمدیت کی توفیق ملی اور اس طرح حضرت مسیح موعود کے چار بیٹے ہو گئے جو آپ کی روحانی اولاد میں بھی شامل تھے ( حضرت مرزا سلطان احمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پہلی شادی سے، سب سے بڑے صاحبزادے تھے۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں بیعت نہیں کی تھی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے دور خلافت میں آپ با قاعدہ بیعت کر کے میں داخل ہوئے)۔اسی طرح دوشنبہ ہے مبارک دوشنبہ کے الفاظ کی رو سے آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دوسرے خلیفہ بنے۔اور آپ کے عہد میں ان اقوام میں تبلیغ کا آغاز ہوا جن تک ابھی تک پیغام حق نہیں پہنچا تھا۔اس کے بعد حضرت مصلح موعودؓ نے یہ تاریخی اعلان فرمایا کہ حضرت مسیح موعود نے جو پسر موعود کے متعلق پیشگوئیاں فرمائی تھیں ان کی مصداق حضور کی ذات ہی ہے۔یہ جماعت کی تاریخ کا ایک اہم دن تھا اور ان کے لئے ایک بہت بڑی خوشی کا موقع تھا۔اس خطبہ کے بعد لوگوں نے مسرت سے ایک دوسرے کو مبارک بادیں دیں۔(۱۱،۱۰) ۲۹ جنوری کو قادیان میں یو م مصلح موعود منایا گیا اور بعد نماز ظہر مسجد اقصی میں حضرت چوہدری فتح محمد صاحب سیال کی صدارت میں جلسہ منعقد ہوا جس میں مقررین نے اس پیشگوئی کے مختلف پہلوں پر روشنی ڈالی۔اس طرح وہ اعتراض جو کچھ مخالفین کی طرف سے پیش کیا جاتا تھا کہ حضور نے خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر پا کر اپنے آپ کو پسر موعود کی پیشگوئی کا مصداق نہیں قرار دیا، دور ہو گیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کی صداقت واضح ہو کر سامنے آگئی۔اس تاریخی اعلان کے ساتھ حضرت مصلح موعود کی با برکت خلافت کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔اب پسر موعود کی اس عظیم الشان پیشگوئی کو سوسال سے بھی زائد عرصہ گذر چکا ہے اورلیکھرام کی کی گئی پیشگوئیوں پر بھی ایک صدی بیت گئی۔ہر طالب حق کے لئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کس کی پیش گوئی درست نکلی اور کس کے دعوے غلط ثابت ہوئے لیکھرام نے تو اپنے الہام کی بناء پر دعویٰ کیا تھا کہ اب حضرت مسیح موعود کے کوئی بیٹا پیدا نہیں ہو گا اور آپ کی ذریت جلد منقطع ہو جائے گی۔لیکن ایسا ہرگز نہیں ہوا۔صرف حضرت مصلح موعود ہی نہیں بلکہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب اور