سلسلہ احمدیہ — Page 99
99 99 ابھی آپ نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر با قاعدہ اس پیشگوئی کا مصداق ہونے کا حتمی دعوی نہیں فرمایا تھا۔اس بناء پر مکرم خواجہ کمال الدین صاحب اور دوسرے غیر مبائعین احباب اس بات کا برملا اظہار کرتے رہے کہ اگر آپ ہی مصلح موعود ہیں تو آپ حلفاً بیان کر دیں کہ آپ کو الہاما بتایا گیا ہے کہ آپ ہی اس پیشگوئی کا مصداق ہیں، اس کے بعد وہ یا آپ کو قبول کر لیں گے یا محض خاموش ہو کر دعاؤں میں لگ جائیں گے۔(۹) آغاز ۱۹۴۴ء میں حضور لا ہور تشریف لے گئے اور ٹمپل روڈ پر مکرم شیخ بشیر احمد صاحب کی کوٹھی پر قیام فرمایا۔پانچ اور چھ جنوری کی درمیانی شب میں آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک طویل رویا دکھایا گیا جس کے آخر میں آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوۓ وَ أَنَا المَسِيحَ المَوعودُ مَثِيلُه وَ خَلِیفَته، یعنی اور میں بھی مسیح موعود ہوں یعنی اس کا مثیل اور خلیفہ ہوں۔اس پر خواب میں ہی آپ پر رعشہ کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے کہ یہ زبان پر کیا جاری ہؤا ہے کہ میں مسیح موعود ہوں۔اس پر خواب میں ہی آپ کے ذہن میں ڈالا گیا کہ آگے کے الفاظ اس کے مطلب کو حل کر دیتے ہیں یعنی آپ حضرت مسیح موعود کے خلیفہ اور مثیل ہیں۔حضرت مسیح موعود کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے موعودہ بیٹے کے متعلق بتایا گیا تھا کہ وہ حسن و احسان میں تیرا نظیر ہوگا۔اس الہام کو پورا کرنے کے لئے آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے ہیں۔حضور نے قادیان واپس تشریف لا کر ۲۸ جنوری کو جو خطبہ ارشاد فرمایا اس میں اس خواب کو بیان فرمایا۔اس خطبہ کے آغاز میں آپ نے فرمایا کہ " آج میں ایک ایسی بات کہنا چاہتا ہوں جس کا بیان کرنا میری طبیعت کے لحاظ سے مجھ پر گراں گذرتا ہے لیکن چونکہ بعض نبوتیں اور الہی تقدیریں اس کے بیان کرنے کے ساتھ وابستہ ہیں۔اس لئے میں اس کے بیان کرنے سے باوجود اپنی طبیعت کے انقباض کے رک نہیں سکتا۔“ اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا کہ یہ بات بیان کرنے سے پہلے حضور نے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا بھی کی اور استخارہ بھی کیا تا کہ کوئی بات اللہ تعالیٰ کی منشا کے خلاف نہ ہو۔پھر آپ نے وہ رویاء بیان فرمائی اور پسر موعود کی پیشگوئی کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔آپ نے فرمایا کہ پیشگوئی