سلسلہ احمدیہ — Page 675
انڈونیشیا: 675 انڈونیشیا میں جماعت کے مبلغین خاص طور پر مولوی رحمت علی صاحب کی قابلِ قدر مساعی کا ذکر حضرت مرزا بشیر احمد کی تصنیف فرمودہ میں آچکا ہے اور ہم بھی حصہ دوئم کے آغاز میں اس کا مختصر جائزہ لے چکے ہیں۔اب ہم ایک دفعہ پھر انڈونیشیا کی جماعت کی ترقی کا ذکر کریں گے اور دیکھیں گے کہ ۱۹۳۰ء کی دہائی کے آخر اور ۱۹۶۵ء کے درمیان مخلصین کی اس جماعت کو کن کن مراحل سے گذرنا پڑا۔یہاں پر جیسے جیسے جماعت ترقی کر رہی تھی ، جماعت کی مساجد کی ضرورت بڑھتی جا رہی تھی۔چنانچہ ۱۹۳۷ء میں بٹاویہ کی جماعت نے اپنی مسجد اور ملحقہ مشن ہاؤس تعمیر کیا۔حضرت مصلح موعودؓ نے اس مسجد کا نام مسجد الھدایت رکھا۔اسی طرح انڈونیشیا میں جماعت نے دوسری مسجد گاروت کے مقام پر تعمیر کی جہاں کی ترقی پذیر جماعت کی ضروریات بڑھ رہی تھیں۔اس مسجد کا افتتاح مکرم مولوی رحمت علی صاحب نے مارچ ۱۹۳۸ء میں فرمایا۔(۱) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تصانیف کا مقامی زبانوں میں ترجمہ بہت ضروری ہے تا کہ احباب براہ راست آپ کے علم کلام سے فیضیاب ہوسکیں۔مکرم مولوی عبد العزیز شریف صاحب نے ۱۹۳۵ء میں اسلامی اصول کی فلاسفی کا ترجمہ مکمل کر لیا۔اس کی اشاعت کا کام مکرم ابوبکر صاحب کے ذریعہ کیا گیا اور آپ نے باوجود مالی وسائل کی کمی کے اس کی اشاعت کی ذمہ داری اُٹھائی اور اگست ۱۹۳۷ء میں یہ کتاب شائع ہوگئی۔(۲) اب مقامی احمدی بھی جماعتی کاموں اور خدمات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔ان میں سے ایک مکرم ڈھنگ ڈاٹو مواجہ صاحب تھے۔آپ احمدیت قبول کرنے کے بعد ۱۹۲۹ء میں بمع اہل و عیال قادیان تشریف لائے تھے۔۱۹۳۷ء میں حضور نے آپ کو جماعت انڈونیشیا کا پریذیڈنٹ مقرر فرمایا۔مگر چند ماہ بعد نومبر ۱۹۳۷ء میں انتقال فرما گئے۔انا لله و انا اليه راجعون ۱۹۳۹ء میں باقی جماعت احمد یہ عالمگیر کی طرح انڈونیشیا میں بھی گاروت میں احمد یہ مرکز میں یہ تقریبات منائی گئیں۔۱۹۳۸ء اور ۱۹۳۹ء کے دوران انڈونیشیا کی جماعت نے اشاعت کے اہم