سلسلہ احمدیہ — Page 630
630 پر اور مجلس خدام الاحمدیہ قائم کی گئیں۔(1) ۱۹۴۵ء میں لیگوس کے مشن ہاؤس کا سنگِ بنیا درکھا گیا۔تقریباً گیارہ سال سے مکرم فضل الرحمن حکیم صاحب نائیجیریا میں اکیلے مرکزی مبلغ تھے۔دوسری جنگِ عظیم کے دوران مکرم مولوی محمد الدین صاحب نومبر ۱۹۴۲ء میں نائیجیریا کے لئے روانہ ہوئے اور بمبئی سے ایک جہاز ٹلا وہ پر سوار ہوئے۔لیکن یہ جہاز راستے میں تارپیڈو سے غرق ہو گیا۔اور اس طرح آپ نے جوانی میں ہی شہادت کا رتبہ پایا۔جنگ عظیم کے بعد جماعت نے مزید مبلغین کو نائیجیریا بھجوانے کا انتظام کیا۔چنانچہ اس سال مکرم نور محمد نسیم سیفی صاحب، مکرم چوہدری نذیر احمد صاحب ، مکرم ملک احسان اللہ صاحب اور مکرم عبد الخالق صاحب سوڈان کے راستے بہت سی صعوبتیں برداشت کرتے ہوئے نائیجیریا پہنچے۔(۷) با وجود تمام مشکلات سے رفتہ رفتہ نائیجیریا کے نئے مقامات پر جماعتیں قائم ہو رہی تھیں۔ہم مختصراً جائزہ لیں گے کہ ۱۹۳۴ء اور ۱۹۴۷ء کے درمیان کون سی جماعتیں قائم ہوئی تھیں۔جوس ( Jos) کا شہر پلاٹو (Plateau) سٹیٹ کا صدر مقام ہے۔یہاں پر احمدیت کا تعارف اوٹا (Otta) کے ایک احمدی الحاجی عبد الوہاب او جویے (Ojoye) کے ذریعہ ہوا، جنہوں نے یہاں سکونت اختیار کی۔پھر مکرم فضل الرحمن حکیم صاحب نے یہاں کا دورہ کیا تو دو مزید بیعتیں ہوئیں۔یہاں پر بھی مخالفت ہوئی اور بعض اوقات احمدی مقررین پر پتھر بھی پھینکے گئے لیکن آہستہ آہستہ اس علاقے میں جوس کے مقام پر مسجد بھی بنی اور قریب کے دوسرے مقامات پر بھی لوگ احمدیت میں داخل ہونے لگے۔نائیجیر یا جماعت کی تاریخ میں الا رو ( llaro) کی ایک خاص اہمیت ہے کیونکہ بعد میں یہاں پر جامعہ احمدیہ بنایا گیا۔یہاں پر سب سے پہلے الحاجی عبد العزیز ابیولا (Abiola) صاحب نے ۱۹۴۳ء میں احمدیت قبول کی اور اپنے مکان کے ایک حصہ کو جماعت کی مسجد کے طور پر مختص کر دیا۔اس کے بعد یہاں کے کئی دوسرے احباب بھی بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہوئے۔اور ۱۹۴۹ء میں جماعت نے الا رو میں اپنی مسجد بنائی اور ۱۹۵۳ء میں فضل عمر پرائمری سکول کے نام سے ایک سکول قائم کیا۔اب الا رو کا شمار نائیجیریا کی بڑی جماعتوں میں ہوتا ہے۔۱۹۴۶ء میں شمالی نائیجیریا کے اہم شہر کا نو میں جماعت احمدیہ کے مشن کا آغاز کیا گیا یہاں پر